انوارالعلوم (جلد 4) — Page 35
العلوم جلد ۴ ۳۵ عورتوں کا دین سے واقف روری ہے پاؤں اکھڑ گئے اور رسول کریم ای تنہا رہ گئے۔کفار نے آپ کو اتنے پتھر مارے کہ آپ زخمی ہو کر گر پڑے اور لاشوں کے نیچے دب گئے۔اس سے شبہ پیدا ہوا کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔جب یہ خبر مدینہ پہنچی جو احد سے چار میل کے فاصلہ پر ہے تو سب مرد و عورت گھبرا کر باہر نکل آئے اور اصل حقیقت دریافت کرنے کے لئے راستہ پر کھڑے ہو گئے۔ادھر لاشوں کے نیچے سے جب آنحضرت ﷺ کو باہر نکالا گیا تو معلوم ہوا کہ آپ زندہ ہیں۔یہ سن کر سب مسلمان جمع ہو گئے اور کافر بھاگ گئے۔مسلمان جب مدینہ کو واپس لوٹے اور لوگوں نے انہیں دیکھا تو ایک عورت آگے بڑھی۔جو رسول کریم اے کی کوئی رشتہ دار نہ تھی وہ مدینہ کی رہنے والی تھی اور مکہ کے لوگ مدینہ والوں سے علیحدہ تھے۔وہ محض دین کی وجہ سے رسول کریم ا سے اخلاص رکھتی تھی۔اس نے ایک صحابی سے جو آگے آگے آرہا تھا پوچھا رسول اللہ ﷺ کا کیا حال ہے چونکہ آپ زندہ تھے اور پیچھے تشریف لا رہے تھے اس لئے اس نے اس سوال کو معمولی سمجھ کر جواب نہ دیا اور کہا تیرا باپ مارا گیا ہے۔اس پر عورت نے کہا۔میں نے اپنے باپ کے متعلق نہیں پوچھا بلکہ یہ دریافت کیا ہے کہ رسول اللہ ا کا کیا حال ہے مگر اس نے اس کا جواب نہ دیا اور کہا تیرا خاوند بھی مارا گیا ہے۔یہ سن کر اس نے کہا میں رسول اللہ ا کے متعلق پوچھتی ہوں ان کا کیا حال ہے۔اس کا بھی اس نے جواب نہ دیا اور کہا تیرا بھائی بھی مارا گیا ہے۔اس پر اس نے کہا تم میرے سوال کا کیوں جواب نہیں دیتے۔میں تو پوچھتی ہوں رسول اللہ ﷺ کا کیا حال ہے اس نے کہا اچھے ہیں اور تشریف لا رہے ہیں یہ سن کر اس نے کہا الحمد للہ اگر رسول اللہ ﷺ زندہ ہیں تو پھر اور کسی کی مجھے پرواہ نہیں ہے۔(سیرت ابن ہشام اردو حصہ دوئم صفحہ ۸۴ مطبوعہ لاہور ۱۹۷۵ء) اس سے اس عورت کی رسول اللہ الا سے محبت اور الفت کا اندازہ لگاؤ۔جو محض دین کی وجہ سے تھی اور خیال کرو کہ کیسا اخلاص تھا مگر اس زمانہ میں دیکھو اگر کسی کا چھوٹا سا بچہ مر جائے تو اس کا کیا حال ہوتا ہے مگر اس کا باپ مارا جاتا ہے۔خاوند شہید ہوتا ہے۔بھائی قتل کیا جاتا ہے۔بیٹا کوئی ہے نہیں اور یہی قریبی سے قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں جن کو اگر کوئی تکلیف اور دکھ پہنچے تو عورتوں کا کیا مردوں کے دل بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں۔مگر اس عورت کے اندر ایسا قومی اور مضبوط دل تھا کہ اسے باپ اور بھائی اور خاوند کے مرنے کی خبر سنائی جاتی ہے مگر وہ آنحضرت ﷺ کی خیریت کی خبر سن کر الحمد للہ کہتی ہے اور کسی صدمہ کی پرواہ نہیں