انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 593 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 593

انوار العلوم جلد ۵۹۳ تقدیر الهی ذریعے وہ غیب کی خبر معلوم کر سکتا ہو۔لیکن جب ایک حکم خاص حالات کے بدلنے پر ٹل جاتا ہے تو صاف ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ حکم ایک قادر ہستی کی طرف سے ہے جو ہر ایک مناسب حالت کے مطابق حکم دیتی ہے جیسا جیسا انسان اپنے حال کو بدلتا رہتا ہے وہ بھی اپنی تقدیر کو اس کے لئے بدلتی جاتی ہے۔اور اس سے اس کی شوکت اور جلال کا اظہار ہوتا ہے اور بندہ کی امید بڑھتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اگر وہ پکڑتا ہے تو چھوڑ بھی سکتا ہے اور ایک مشین کی طرح نہیں ہے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر کوئی شخص بھی نظر انصاف سے دیکھے گا تو اسے معلوم ہو گا کہ اگر انذاری پیشگوئیاں نہ ٹلیں تو خدا تعالیٰ کا قادر ہونا ہر گز ثابت نہ ہو۔بلکہ یہ معلوم ہو کہ گویا وہ نعوذ باللہ ایک بلینے کی طرح ہے۔اگر اس میں گنا ڈالا جاتا ہے تو اسے بھی پیل دیتا ہے اور اگر اس کے آقا کا ہاتھ پڑ جائے تو اسے بھی پیل دیتا ہے۔خواہ کوئی کتنی ہی تو بہ کرے اس کا حکم اٹلی ہوتا ہے اور اس میں کوئی فرق نہیں پڑ سکتا۔اس کی دشمنی ترک کر کے اس کی دوستی کا اختیار کرنا کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچاتا۔شاید اس جگہ کسی کے دل میں یہ شبہ پیدا ہو کہ اگر اسی طرح پیشگوئیاں بدل جاویں تو ان کی سچائی کا کیا ثبوت ہو ؟ پھر کیوں نہ کہہ دیا جائے کہ یہ سب ڈھکو سلا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ ا اول تو پیشگوئیاں مخفی اسباب پر دلالت کرتی ہیں یعنی ان میں ایسی باتیں بتائی جاتی ہیں جن کے اسباب ظاہر میں موجود نہیں ہوتے اور قیاس اور ظن انہی باتوں میں چلتا ہے جن کے اسباب ظاہر ہوں۔مثلاً ایک شخص بیمار ہو اور اس کی نسبت یہ بتایا جائے کہ وہ مر جائے گا تو اس میں کی قیاس کا دخل ہو سکتا ہے۔لیکن ایسی خبر دی جائے جس کے اسباب ہی موجود نہ ہوں اور پھر اس کے آثار ظاہر ہو جائیں تو پھر خواہ وہ ٹل ہی جائے اسے قیاسی خبر نہیں کہا جا سکتا۔کیونکہ اس کے ایک حصہ نے اس کے دوسرے حصہ کی صداقت پر مہر لگا دی ہے۔پس باوجود پیشگوئیوں کے ملنے کے ان کی صداقت میں شبہ پیدا نہیں ہو سکتا اور وہ پھر بھی دنیا کی ہدایت کے لئے کافی ہوتی ہیں۔دو سرا جواب اس شبہ کا یہ ہے کہ انذاری پیشگوئیاں تو اکثر دشمنوں کے لئے ہوتی ہیں اور دشمن بالعموم ضدی اور اپنے خصم پر تمسخر اڑانے والا ہوتا ہے اور اس کے قبل از وقت ڈرانے سے بہت کم فائدہ اٹھاتا ہے۔ایسے تو بہت ہی کم ہوتے ہیں جو انذار سے فائدہ اٹھا ئیں اور ان پر سے عذاب ٹل جائے۔پس مثلاً پانچ یا دس فیصدی انزاری پیشگوئیوں کے ٹل جانے