انوارالعلوم (جلد 4) — Page 579
انوار العلوم جلد من ۵۷۹ تقدیرانی اسباب کے بھی کام کر سکتا ہے۔اس کی مثال میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک واقعہ پیش کرتا ہوں۔ایک دفعہ آپ کو کھانسی کی شکایت تھی۔مبارک احمد کے علاج میں آپ ساری ساری رات جاگتے تھے۔میں ان دنوں بارہ بجے کے قریب سوتا تھا اور جلدی ہی اٹھ بیٹھتا تھا۔لیکن جب میں سوتا اس وقت حضرت صاحب کو جاگتے دیکھتا اور جب اٹھا تو بھی جاگتے دیکھتا اس محنت کی وجہ سے آپ کو کھانسی ہو گئی۔ان دنوں میں ہی آپ کو دوائی وغیرہ پلایا کرتا تھا اور چونکہ دوائی کا پلانا میرے سپرد تھا اس لئے ڈاکٹروں کے مشورہ کے مطابق ایسی باتوں پر جو کھانسی کے لئے مضر ہوں ٹوک بھی دیا کرتا۔ایک دن ایک شخص آپ کے لئے تحفہ کے طور پر کیلے لایا۔حضرت صاحب نے کیلا کھانا چاہا مگر میرے منع کرنے پر کہ آپ کو کھانسی ہے آپ کیوں کیلا کھاتے ہیں آپ نے کیلا مسکرا کر رکھ دیا۔غرض چونکہ میں ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل کراتا تھا اور تیمار دار تھا آپ میری بات بھی مان لیتے تھے۔انہی دنوں ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب حضرت صاحب کے لئے فرانسیسی سیب لائے جو اتنے کھٹے تھے کہ کھانسی نہ بھی ہو تو ان کے کھانے سے ہو جائے۔لیکن حضرت صاحب نے تراش کر ایک سیب کھانا شروع کر دیا۔میں نے منع کیا لیکن آپ نے نہ مانا اور کھاتے چلے گئے۔میں بہت کڑھتا رہا کہ اس قدر کھانسی کی آپ کو تکلیف ہے مگر پھر بھی آپ ایسا ترش میوہ کھا رہے ہیں۔لیکن آپ نے پرواہ نہ کی اور سیب کی پھانکیں کر کے کھاتے گئے اور ساتھ ساتھ مسکراتے بھی گئے۔جب سیب کھا چکے تو فرمایا۔تمہیں نہیں معلوم مجھے الہام ہوا ہے کہ کھانسی دور ہو گئی ہے اور اب کسی احتیاط کی ضرورت نہیں۔اس لئے میں نے اللہ تعالیٰ کے کلام کے ادب کے طور پر یہ سیب باوجود ترش ہونے کے کھا لیا ہے۔چنانچہ اس کے بعد آپ کی کھانسی اچھی ہو گئی اور کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوئی۔اب یہ سوال پیدا بعض حالات میں کیوں اسباب استعمال کرائے جاتے ہیں؟ ہوتا ہے کہ بعض حالات میں بندہ سے کیوں اسباب استعمال کرائے جاتے ہیں؟ بلا اسباب کیوں کام نہیں ہو جاتے ؟ اس کے لئے یاد رکھنا چاہیئے کہ اول اگر ہمیشہ بلا اسباب کام لیا جاوے تو ایمان بالغیب جو حصول انعام اور ثواب کیلئے ضروری ہے باطل ہو جائے۔علاوہ ازیں چونکہ بندہ کا عمل بھی خدا کے رحم کو جذب کرتا ہے اس لئے تقدیر بھی ہوتی ہے اور اس کے ساتھ رحمت کے