انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 553 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 553

رالعلوم جلد ۴ ۵۵۳ تقدیر الهی ہے۔میں تو پہلے ہی دل سے یہ چاہتا تھا۔چنانچہ میں اسی کمرہ میں جا کر بیٹھ گیا۔کچھ دیر کے بعد جب گاڑی چلنے لگی۔تو سارے لوگ چلے گئے اور معلوم ہوا کہ پیر صاحب اکیلے ہی میرے ہمسفر ہیں۔اسٹیشن پر پیر صاحب سے لوگوں نے دریافت کیا تھا کہ آپ کچھ کھا ئیں گے تو انہوں نے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ مجھے اس وقت بھوک نہیں۔میں تو امر تسر جا کر ہی کچھ کھاؤں گا لیکن جونہی گاڑی چلی انہوں نے اس سبز کپڑے کو جو پگڑی پر ڈالا ہوا تھا اور جس سے منہ کا ایک ڈھانکا ہوا تھا اتار دیا۔اور کھڑکی سے منہ نکال کر اپنے ملازم کو جو نوکروں کے کمرہ میں تھا آواز دی کہ کیا کچھ کھانے کو ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ کھانے کو تو کچھ نہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے تو سخت بھوک لگ رہی ہے اس پر اس نے کہا کہ اچھا میاں میر چل کر چائے کا انتظام کروں گا۔اس پر انہوں نے پوچھا کہ وہ خشک میوہ جو تیرے پاس تھا وہی دے دے۔چنانچہ اس نے میوہ کا رومال ہاتھ نکال کر پیر صاحب کو پکڑا دیا۔جو انہوں نے اپنے پاس رکھ لیا۔اس کے بعد وہ میری طرف مخاطب ہوئے اور پوچھا کہ آپ کی تعریف ! میں نے کہا میرا نام محمود احمد ہے۔پھر کہا آپ کہاں جائیں گے ؟ میں نے کہا قادیان۔اس پر انہوں نے سوال کیا کہ کیا آپ قادیان کے باشندہ ہیں یا صرف قادیان کسی کام جارہے ہیں؟ میں نے جواب دیا میں قادیان کا باشندہ ہوں۔اس پر وہ ذرا ہوشیار ہوئے اور پوچھا کہ کیا آپ کو مرزا صاحب سے کچھ تعلق ہے؟ میں نے کہا ہاں! مجھے ان سے تعلق ہے۔اس پر انہوں نے پوچھا کیا تعلق ہے؟ میں نے جواب دیا کہ میں ان کا بیٹا ہوں۔اس پر انہوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا اور کہا اوہو! مجھے آپ سے ملنے کی بہت خوشی ہوئی کیونکہ مجھے مدت سے آپ سے ملنے کا اشتیاق تھا۔ان کی یہ بات سن کر مجھے حیرت ہوئی کیونکہ ان پیر صاحب کو ہمارے سلسلہ سے سخت عداوت ہے اور ان کا فتویٰ ہے کہ جو احمدی سے بات بھی کر جاوے اس کی بیوی کو طلاق ہو جاتی ہے مگر میں خاموش رہا اور اس بات کا منتظر رہا کہ آئندہ کلام کس سمت کا رخ کرتا ہے۔اس مرحلہ پر پہنچ کر انہوں نے وہ میوہ کا رومال کھولا اور اپنی جگہ سے اٹھ کر اس بینچ پر آبیٹھے جو میرے اور ان کے بینچ کے درمیان تھا۔اور رومال کھول کر میرے سامنے بچھا دیا کہ آپ بھی کھا ئیں۔چونکہ مجھے کھانسی اور نزلہ کی شکایت تھی۔میں نے انکار کیا اور کہا کہ مجھے چونکہ گلے میں تکلیف ہے اس لئے آپ مجھے معاف رکھیں۔پیر صاحب فرمانے لگے کہ نہیں کچھ نہیں ہو تا آپ کھا ئیں تو سہی۔میں نے پھر انکار کیا کہ مجھے اس حالت میں ذراسی بد پرہیزی سے بھی بہت تکلیف ہو جاتی ہے۔اس پر پیر صاحب