انوارالعلوم (جلد 4) — Page 552
انوار العلوم جلد ) سلام ۵۵۲ تقدیرانی یہ اعتراض محض قلت تدبر کا نتیجہ ہے اس لئے کہ خدا تعالیٰ کے متعلق اس مثال کا پیش کرنا ہی غلط ہے۔اور دنیا میں انسان کی پیدائش کی غرض کو نہ سمجھنے کی وجہ سے یہ مثال بنائی گئی ہے۔خدا کا تعلق جو بندوں سے ہے اس کی صحیح مثال یہ ہے کہ لڑکوں کا امتحان ہو رہا ہے اور سپرنٹنڈنٹ ان کی نگرانی کر رہا ہے اس کے لئے کیا یہ جائز ہے کہ جو لڑ کا غلط سوال حل کر رہا ہو اس کو بتا دے؟ نہیں۔پس جب انسان کو دنیا میں اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ اس کو امتحان میں ڈال کر انعام کا وارث بنایا جائے تو اگر اس کے غلطی کرنے پر اسے بتا دیا جائے کہ تو فلاں غلطی کر رہا ہے تو پھر امتحان کیا؟ اور انعام کس کا؟ اس معاملہ میں خدا تعالی کا جو تعلق بندوں سے ہے وہ وہی ہے جو اس سپرنٹنڈنٹ کا ہوتا ہے جو کمرہ امتحان میں پھر رہا ہو اور جو دیکھ رہا ہو کہ لڑکے غلط سوال بھی حل کر رہے ہیں اور صحیح بھی۔پس باوجود علم کے اللہ تعالیٰ کا بندہ کو فرداً فردانہ روکنا اس کی شان کے خلاف نہیں بلکہ اس غرض کے عین مطابق ہے جس غرض کے لئے انسان پیدا کیا گیا ہے۔آج کل کے صوفیوں میں علم اور قدر میں فرق نہ سمجھنے کی وجہ سے صوفیوں کے فقرے عجیب عجیب قسم کے خیالات پھیلے ہوئے ہیں اور بعض خاص فقرات ہیں جو اس وقت کے صوفیوں کے منہ چڑھے ہوئے ہیں اور جن کو خدا پرستی کی خاص علامت سمجھا جاتا ہے اور جن کے ذریعے سے وہ نادانوں پر اپنا رعب جماتے ہیں مگر عقلمند آدمی ان کے قابو میں نہیں آسکتا۔چنانچہ میں اس کے متعلق اپنا ایک واقعہ سناتا ہوں جو ایک لطیفہ سے کم نہیں۔میں ایک دفعہ لاہور سے آ رہا تھا۔دو تین دوست مجھے سٹیشن پر چھوڑنے آئے۔یہ ۱۹۱۰ء کا واقعہ ہے۔جب ہم ریل کے ایک کمرہ میں داخل ہونے لگے تو اس کے آگے کچھ لوگ کھڑے میاں محمد شریف صاحب جو آج کل امرتسر میں ای۔اے۔سی ہیں انہوں نے مجھے کہا آپ اس میں نہ بیٹھیں۔اس میں فلاں پیر صاحب اور ان کے مرید ہیں۔(یہ پیر صاحب پنجاب کے مشہور پیر ہیں اور اس وقت ہمارے صوبہ کے پیروں میں شاید ان کی گدی سب سے زیادہ چل رہی ہے شاید کچھ نقصان پہنچائیں۔اس پر کوئی اور کمرہ تلاش کیا گیا مگر نہ ملا۔میاں صاحب نے مشورہ دیا کہ سیکنڈ کلاس میں جگہ نہیں انٹرہی میں بیٹھ جائیں لیکن ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب بھی ساتھ تھے انہوں نے کہا نہیں اسی کمرہ میں بیٹھنا چاہئے۔ان لوگوں کا ڈر کیا