انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 524 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 524

العلوم جلد " ۵۲۴ میں ایک ایسی قوت آگئی کہ میں اس کو بیان نہیں کر سکتا۔خطاب جلسہ سالانہ ۲۷ دسمبر ۱۹۱۹ء پس جب کوئی انسان اپنی ذمہ داری کو سمجھ لے تو اس کا دل بہت مضبوط ہو جاتا ہے۔ہر ایک احمدی کو چاہئے کہ تبلیغ احمدیت کو اپنا فرض سمجھے اور اس کے لئے جس قدر بھی ہو سکے کوشش کرے۔اور اگر کوشش کرے گا تو اللہ تعالٰی ضرور اس کی مدد کرے گا۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ کوئی ہماری بات نہیں سنتا کوئی ہماری طرف توجہ نہیں کرتا پھر ہم تبلیغ کس طرح کریں۔لیکن میں کہتا ہوں کوئی وجہ نہیں کہ پشاور جیسے علاقہ سے تو ایک شخص کوشش کر کے سعید روحوں کو نکال لے مگر امن کی جگہ میں رہنے والے کچھ نہ کر سکیں۔انگلستان، نائیجیریا ، مصر، ماریشس، سیلون وغیرہ جیسے دور دراز علاقوں سے تو حق کو قبول کرنے والوں کی جماعت پیدا ہوتی رہے مگر ہندوستان والوں میں سے ایسے لوگ نہ نکل سکیں۔اصل بات یہ ہے کہ ایسا شخص جو تبلیغ میں سستی کرتا ہے اپنی ذمہ داری کو نہیں سمجھتا۔یہ ٹھیک ہے کہ ہم ظاہری طور پر کمزور ہیں۔اور یہ بھی صحیح ہے کہ کیا بلحاظ افراد کے اور کیا بلحاظ جماعت کے ہمارے اندر کشش کی کوئی ظاہری چیز نہیں۔لیکن اگر ہم کوشش کریں تو ضرور ہے کہ ہم کامیاب ہو جائیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ کے ہمارے ساتھ وعدے ہیں۔پس تم لوگ اس کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔مجموعی طور پر بھی اور انفرادی طور پر بھی۔انفرادی طور پر تو اس طرح کہ ہر احمدی اپنے آپ کو مبلغ سمجھے۔اور مجموعی طور پر اس طرح کہ اشاعت اسلام اور تبلیغ اسلام کے لئے جو کام ہو رہا ہے اس میں اپنے مال کو خرچ کرے۔بے شک تم لوگ اسے بڑا سمجھو گے اور یہ واقع ہے کہ ساری دنیا کو تبلیغ کرنے کا کام ہمارے لئے ایسا ہی ہے جیسا کہ آسمان کو سر پر اٹھانے کا۔لوگوں نے ایک قصہ بنایا ہوا ہے کہتے ہیں۔ایک پرندہ ہے جس کا نام پڑا ہے۔وہ رات کو لاتیں اوپر کر کے سوتا ہے تاکہ اگر آسمان نیچے گر پڑے تو غافل اور بے خبر دنیا تباہ نہ ہو جائے بلکہ وہ آسمان کو اپنی لاتوں پر اٹھائے رکھے۔یہ تو ایک قصہ ہے لیکن بلاشبہ ہماری یہی مثال ہے۔ہاں ایک فرق ہے اور وہ یہ کہ اس پر نہ تو آسمان گرتا ہے اور نہ وہ اسے سہارتا ہے۔مگر دنیا پر آسمان گرتا ہے اور ہمارا سلسلہ اس کو سہارتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے آسمان کو اٹھانے کا گر بتا دیا ہے۔وَمَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيْهِمْ وَمَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ ٥ (الانفال: ۳۴) یعنی خدا تعالیٰ کے عذاب کو روکنے والی دو ہی چیزیں ہیں۔ایک تو یہ کہ خدا کا رسول ان میں موجود ہو۔دوسری یہ کہ ان میں ایک جماعت ایسی موجود ہو جو استغفار کرتی رہتی ہو۔