انوارالعلوم (جلد 4) — Page 507
رالعلوم جلد ۴ ۵۰۷ خطاب جلسہ سالانہ ۲۷ دسمبر ۱۹۱۹ء میں سے اہم ترین اعمال عبادات ہیں۔اور ان میں سے بھی اہم نماز ہے۔جب تک کوئی انسان اس فرض کو پورے طور پر ادا نہیں کرتا۔خدا تعالیٰ کا عبد نہیں ہو سکتا۔اور اگر کوئی باوجود اس فرض کے ادا نہ کرنے کے اپنے آپ کو عبدوں میں شمار کرتا ہے تو وہ ویسا ہی عبد ہے جیسا کہ وہ بھیگی ہوئی بلی پر ہاتھ لگا کر جواب دینے والا نوکر تھا۔پس یہ بہت بڑا فرض ہے۔مگر افسوس ہے کہ بہت لوگ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔حالانکہ عبد کا یہی کام نہیں کہ اپنے آقا کی پوشیدہ طور پر خدمت کرے۔اور پوشیدہ طور پر اس کے احکام کی تعمیل کرے۔بلکہ یہ بھی ہے کہ ظاہر طور پر اس کے احکام کو بجالائے۔کیونکہ جو ظاہری طور پر اپنے آقا کی خدمت نہیں کرتا اور اس کے احکام بجا نہیں لاتا اس میں عجب اور تکبر پایا جاتا ہے۔وہ سمجھتا ہے اگر میں نے ظاہری طور پر خدمت کی تو لوگ مجھے اس کا خدمت گار کہیں گے۔میں نے دیکھا ہے ایک شخص تھا ابو سعید اس کا نام تھا۔اسے خواجہ کمال الدین صاحب سے بہت محبت تھی اور ان کی بڑی خدمت کیا کرتا تھا۔حتی کہ خواجہ صاحب کو پاخانہ کی چوکی پر لوٹا رکھ دیا کرتا تھا۔ایک دفعہ جب کہ حضرت صاحب گورداسپور تھے اور خواجہ صاحب بھی وہیں تھے۔خواجہ صاحب نے یہ سمجھ کر کہ ابو سعید میری بڑی خدمت کرتا ہے۔مجلس میں اسے کہا چٹائی اٹھا لاؤ۔اس نے کہا میں تمہارا نوکر نہیں ہوں خود اٹھا لاؤ۔یہ جواب سن کر خواجہ صاحب حیران رہ گئے۔پیچھے اس نے خواجہ صاحب کو کہا کہ میں آپ کی ہر ایک خدمت کرنے کو تیار ہوں مگر آپ یہ یاد رکھیں کہ لوگوں کے سامنے مجھے کوئی کام نہ کہیں اس طرح میری ہتک ہوتی ہے۔تو جو انسان ظاہری طور پر خدا تعالیٰ کے احکام کی تعمیل نہیں کرتا اس میں انانیت پائی جاتی ہے۔اور جس میں انانیت پائی جائے وہ خدا تعالیٰ کا عبد نہیں بن سکتا۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے مسجدوں میں مسجد میں نماز پڑھنے سے عجب دور ہو تا ہے عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔اس کی یہ غرض نہیں ہے کہ لوگ ریاء کے طور پر نمازیں پڑھیں۔بلکہ یہ ہے کہ انسان بتائے کہ میں ایک خدا کا غلام ہوں۔اور اس طرح اپنے عجب اور تکبر کو توڑے۔پس خدا تعالیٰ نے اس طرح عجب کی اس ٹانگ کو بھی توڑ دیا ہے۔پس اگر تم خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے ہو۔مگر اپنے گھروں میں نمازیں پڑھتے ہو۔اور مسجد میں اللہ اکبر کر کے لوگوں کو نہیں بتاتے کہ ہم خدا تعالیٰ کے بندے اور عبد ہیں تو معلوم ہوا کہ