انوارالعلوم (جلد 4) — Page 474
۴۴ خطاب جلسہ سالانہ ۲۷ دسمبر ۶۱۹۱۹ ہی جو کچھ ہوا اور اس کی وجہ سے جو بوجھ ہم پر پڑے اس کا ذکر میں اس لئے نہیں کروں گا کہ ہمارے دشمنوں کو پتہ نہ لگ جائے کہ کن ذریعوں سے وہ ہمیں نقصان پہنچا سکتے تھے۔اس کے خدشات کا ہمیں انتظام کرنا ہے مگر باوجود کام کی زیادتی اور اہم ذمہ داری اور بڑی بڑی مشکلات کے اس صیغہ کے ذریعہ ایسی عمدگی اور خوبی کے ساتھ گورنمنٹ کے سامنے اپنی خدمات اور حالات کو پیش کیا گیا کہ پنجاب کی گورنمنٹ کے آفیسر خوب اچھی طرح جان گئے ہیں کہ کس قدر تکالیف اور مشکلات اٹھا کر ہماری جماعت نے ان حالات میں وفاداری دکھلائی ہے۔سیاسی طور پر اس سال جو کچھ ہوا وہ گو اچھا نہیں ہوا مگر ہمیں اس سے اس لئے خوشی ہے کہ حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی تھی کہ ایک وقت آئے گا جب کہ سارے کے سارے لوگ گورنمنٹ کے خلاف ہوں گے اور صرف میری جماعت ہی وفاداری پر قائم رہے گی۔گورنمنٹ یہ کبھی نہیں سن سکتی تھی کہ حضرت مسیح موعود کی لیکھرام کے متعلق پیشگوئی کس طرح پوری ہوئی۔ای طرح گورنمنٹ یہ بھی نہیں سن سکتی تھی کہ ڈوئی کے متعلق آپ نے جو پیشگوئی کی تھی وہ سچی نکلی۔مگر گورنمنٹ نے سنا اور بہت اچھی طرح اس پیشگوئی کو سنا کہ ہماری جماعت وفادار رہے گی اور رہی کیونکہ یہ اس کے مطلب کی بات تھی۔گورنمنٹ کے متعلق ہماری خدمات نادان خیال کرتے ہیں کہ ہم گورنمنٹ کی وفاداری اپنے مطلب کے لئے کرتے ہیں۔لیکن میں افراد کی خدمات کو علیحدہ کر کے یہ کبھی پسند نہیں کرتا کہ ہم جماعت کے طور پر گورنمنٹ کی خدمات اس خیال سے کریں کہ وہ ہمیں کچھ دے۔اور اگر گورنمنٹ جماعت کے طور پر ہماری خدمات کے بدلے کچھ دے تو یہ ہماری قدردانی نہیں ہو گی بلکہ ہماری ہتک ہو گی اور یہ گورنمنٹ کی غلطی ہوگی۔گورنمنٹ اگر کرے تو یہی کر سکتی ہے کہ جماعت کے رأس اور رئیس کو کوئی خطاب وغیرہ پیش کرے۔لیکن اگر گورنمنٹ مجھے کوئی خطاب پیش کرے یا زمین دینا چاہے یا کچھ اور معاوضہ پیش کرے تو میں اسے اپنی سخت ہتک سمجھوں گا اور خیال کروں گا کہ گورنمنٹ نے ہماری نیتوں پر حملہ کیا ہے۔کیونکہ ہم بطور جماعت کے جو کچھ کرتے ہیں وہ کسی معاوضہ کے لئے نہیں کرتے۔بلکہ محض اس لئے کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی پوری ہو کہ صرف میری ہی جماعت وفادار رہے گی۔تو یہ بہت بڑا کام تھا جو اس سال صیغہ امور عامہ نے کیا ہے۔