انوارالعلوم (جلد 4) — Page 396
العلوم جلد ۴ ۳۹۶ خطاب جلسہ سالانہ ۱۷ مار باہر دوستوں کے پاس بھیج دی گئی۔اور قادیان میں بھی اس کے متعلق مشورہ لیا گیا تھا۔چنانچہ ایسے احباب سے مشورہ کرنے کے بعد جو احمدیہ انجمنوں کے سیکرٹری اور پریذیڈنٹ ہیں یا جو اپنے تجربہ اور علم کی بناء پر مشورہ دینے کی اہمیت رکھتے ہیں اس سکیم پر عمل کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔اور سلسلہ کے تمام کاموں کو چند حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔اس وقت تک تمام کام کسی خاص انتظام اور اتحاد کے ماتحت نہ تھے۔اور سوائے ان چند کاموں کے جو قادیان میں مقامی طور پر ہوتے اور جن کا تعلق صدر انجمن احمدیہ سے ہے اور بہت سے ایسے کام تھے جن کے کرنے کی خاص ذمہ داری کسی پر نہ تھی۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد اس وقت تک گیارہ سال کے عرصہ میں مخالفوں کی طرف سے بیسیوں ٹریکٹ اور رسالے ہمارے خلاف شائع ہوئے۔اور یا تو وہ وقت تھا کہ ہمیشہ ہمارا قرضہ مخالفین کے سر پر رہتا تھا یا کاموں کے بڑھ جانے اور اندرونی انتظام کی طرف زیادہ توجہ ہونے کی وجہ سے حضرت خلیفہ اول مخالفین کے اعتراضوں کی طرف توجہ نہ کر سکے۔پھر ان کے بعد میں بھی اندرونی فتنہ کو دور کرنے کی وجہ سے اس طرف خاص توجہ نہ کر سکا۔باقی جو لوگ تھے انہوں نے اگر مخالفین کی کسی کتاب یا رسالہ یا مضمون کا جواب دے دیا تو یہ ان کی سعادت اور اخلاص تھا۔ورنہ جماعت کی طرف سے جوابات شائع کرنے کا کوئی انتظام نہ تھا۔اس لئے اعتراضات کا ذخیرہ جمع ہوتا گیا۔اور آج یہ وقت آگیا کہ مخالفین کا قرضہ ہمارے سر ہو گیا۔اس میں شک نہیں کہ مخالفین کے اعتراضات کا کثیر حصہ نہایت فضول اور لغو ہے۔لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ ہم ان اعتراضات کو فضول کہہ کر ان کے جواب سے سبکدوش نہیں ہو سکتے کیونکہ ہمارے لئے ان باتوں کا جواب دینا ضروری ہے جو خواہ فضول ہی ہوں لیکن ان سے لوگوں کو ی دھو کا لگ سکے اور غلط فہمی میں مبتلا ہو جائیں۔قرآن کریم کو دیکھو اگر اس وقت کے حالات کو تہ نظر نہ رکھا جاوے جبکہ وہ نازل ہوا تو تعجب ہوتا ہے کہ کیسی چھوٹی چھوٹی باتوں کا اس میں جواب دیا گیا ہے۔تو دراصل ایسا اعتراض جس کا کچھ نہ کچھ اثر لوگوں پر ہو وہ بڑا اور قابل جواب اعتراض ہے۔اور جس کا کچھ اثر نہ ہو وہ چھوٹا اور ناقابل التفات ہے۔پس ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں اعتراض فضول یا معمولی ہے۔اگر اس نے کچھ لوگوں کو حق کے قبول کرنے سے روکا ہوا ہے تو وہی بڑا ہے۔حق سے روکنے والے اعتراض کو خواہ کتنا ہی چھوٹا اور معمولی کیوں نہ نظر آئے کبھی چھوٹا اور معمولی نہیں کہنا چاہئے۔اور اس کا دور کرنا نہایت ضروری