انوارالعلوم (جلد 4) — Page 11
م چاند ۲۴ اطاعت اور احسان شناسی دیکھو حضرت مسیح موعود نے بھی کئی مطالبے کئے اور میموریل بھیجے ہیں مگر کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ ان میں وہی طرز اختیار کیا گیا ہے جسے آج کل لوگ اختیار کر رہے ہیں۔ہرگز نہیں۔تو ایسے حقوق جو جائز ہیں ان کے لئے بے شک ادب اور تہذیب سے مطالبہ کیا جائے، وند بھیجے جائیں ، درخواستیں کی جائیں لیکن ایسے طریق نہ اختیار کئے جائیں جن سے حکومت کے رعب میں فرق آئے۔اس کو اسلام سخت نا پسند کرتا ہے اور حضرت مسیح موعود نے بھی اسے سخت ناپسند فرمایا اور اس قسم کا کوئی فعل کرنے والوں کو سخت سرزنش کی ہے۔چنانچہ ایک دفعہ ایک سٹرائک میں حصہ لینے والے کو اپنی جماعت سے نکال دیا تو حضرت مسیح موعود نے ہمارے لئے رستہ صاف کر دیا ہے اور وہی راہ تجویز کر دی ہے جو خدا اور اس کے رسول نے تجویز کی ہوئی ہے اور یہی وہ راہ ہے جس پر چل کر نہ کبھی کسی کو نقصان ہوا اور نہ آئندہ ہو گا۔دیکھئے آنحضرت نے کسی قدر صبر اور تحمل دکھایا۔آپ کو کیسی کیسی تکلیفیں اور ایذا ئیں دی گئیں۔آپ کے ساتھیوں کو کس قدر ستایا گیا۔اگر وہ اس طریق کو جائز سمجھتے جو آج کل جائز سمجھا جاتا ہے تو وہ کیوں اسی طرح نہ کرتے مگر انہوں نے اس کو جائز نہ سمجھا۔آخر خدا تعالیٰ نے ان پر ایسا فضل کیا کہ ان کی تمام تکلیفیں دور ہو گئیں اور وہ جو ان کو دکھ دیتے تھے ان کے مطیع اور فرمانبردار ہو گئے کیوں؟ اس لئے کہ خدا تعالیٰ کبھی اپنے نیک بندوں پر ظالم حکمرانوں کو قائم نہیں رہنے دیتا۔ہاں جو خود ظالم اور خدا سے دور ہوں ان پر حاکم بھی ظالم ہی مقرر کئے جاتے ہیں۔حاکم و محکوم ، افسرود ماتحت پر ایک دوسرے کا بہت بڑا اثر پڑتا ہے۔اگر رعایا میں جھوٹ۔بد دیانتی۔دعا۔فریب وغیرہ عیب ہوں گے تو حکمرانوں میں بھی پائے جائیں گے۔اسی طرح اگر رعایا بھی ان باتوں سے پاک ہوگی تو حکام میں بھی یہ نقص نہیں ہوں گے۔پس اگر لوگ سچے دل سے خدا تعالی کے احکام کی اطاعت کریں تو انہیں کسی قسم کی شکایت ہی نہ پیدا ہو اور اگر ہو تو بڑی آسانی اور سہولت سے دور ہو جائے۔ہم کہتے ہیں اور باتوں کو جانے دو۔تبلیغ اسلام کو لے لو جو ایک بہت ضروری فرض ہے۔کیا مسلمان اس کو پورا کر رہے ہیں ان کا جتنا روپیہ اور وقت سیاسی جھگڑوں میں خرچ ہوتا ہے (آج ) کل کے تعلیم یافتہ مسلمانوں کا کم از کم نصف وقت روزانہ سیاسی معاملات میں خرچ ہوتا ہے) اس کا ایک حصہ بھی اگر تبلیغ اسلام کے لئے خرچ کریں تو بڑے شاندار نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔اگر اس وقت دو لاکھ مسلمان بھی ایسے سمجھ لیں جو سیاست میں حصہ لینے والے ہیں اور یہی