انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 358

۳۵۸ عرفان التى صفات مستحضر نہیں ہوتیں۔اور اگر مستحضر ہوں تو وہ ان کے معنی نہیں جانتے۔مثلاً مسلمانوں میں عام طور پر رواج ہے کہ خدا تعالیٰ کے نام یاد کر لیتے ہیں لیکن ان کے معنی نہیں جانتے۔اور جب تک معنی نہ یاد ہوں۔اس وقت تک محض لفظ کچھ اثر نہیں رکھتے اور نہ اعمال میں ان سے کوئی تغیر واقع ہو سکتا ہے۔پس اول تو بتوں کو خدا کے نام (یعنی صفات) یاد ہی نہیں ہوتے اور جن کو یاد ہوتے ہیں وہ معنی نہیں جانتے۔پھر اسی پر بس نہیں جن کو معنی یاد ہوتے ہیں ان کے ذہن میں ان سے کوئی کیفیت نہیں پیدا ہوتی اور جب تک کیفیت نہ پیدا ہو اس وقت تک بھی الفاظ کچھ فائدہ نہیں دیتے۔مثلا شاہ کے معنی ہیں بکری۔اب اگر کسی کو یہ بتا دیا جائے کہ شاق بکری کو کہتے ہیں لیکن اسے معلوم نہ ہو کہ بکری کیا ہوتی ہے تو کچھ نہیں سمجھ سکے گا۔پس ایسے معنی جن سے انسان کے ذہن میں اس چیز کی صحیح صحیح کیفیت نہ پیدا ہو ان کا آنا نہ آنا برابر ہوتا۔اس لئے صرف معنی ہی آنے کافی نہیں۔بلکہ ان کی کیفیت کا ذہن میں آنا بھی ضروری ہے۔لیکن اکثر لوگ کیفیت سے بالکل ناواقف ہوتے ہیں۔مثلا رب کے معنی کسی سے پوچھے جائیں تو یہ کہدیگا کہ " پروردگار " مگر پروردگار کی کیفیت اس کے قلب میں نہیں آئیگی اور اس کے دل میں اس کے معنی نقش نہیں ہونگے۔تو خدا تعالیٰ کی صفات کے جاننے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف نام یاد ہوں یا معنی آتے ہوں بلکہ یہ ہے کہ خدا کی صفات معلوم ہوں ان کے معافی معلوم ہوں اور جس وقت وہ لفظ زبان پر جاری ہو یا کانوں میں پڑے معاً اس کے مطابق کیفیت قلب میں پیدا ہو۔مثلا ر حمن کے معنی ہیں بغیر محنت کے انعام کرنیوالا۔جس وقت یہ لفظ کسی کی زبان پر جاری ہو اس وقت صرف یہ نہ ہو کہ اس کے دل میں یہ بنا بنایا فقرہ آجاوے کہ بغیر محنت کے انعام کرنے والا بلکہ اس کا اصل مفہوم یعنی اللہ تعالیٰ کے وہ احسانات جو بغیر محنت کے ہوتے ہیں بجلی کی طرح سامنے بلکہ دل کی آنکھوں کے سامنے سے گذر جاویں۔اور تصویر ی عالم میں یہ صفت اس کے سامنے آجاوے۔اور جسے یہ بات حاصل نہ ہو وہ خود سوچ کر ان تفصیلات کو اپنے دل میں لاوے تاکہ اس کی پوری کیفیت دل میں پیدا ہو جائے۔کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جب ان سے خدا کی کسی صفت کے معنی پوچھے جائیں تو بتا دیتے ہیں لیکن جب ان معنوں کا مطلب دریافت کیا جائے تو خاموش ہو جاتے ہیں۔اور ان کا وہی حال ہوتا ہے جو اس شخص کا ہوا جس نے ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے