انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 353

م جلد ۳۵۳ چونکہ کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ صحیح ذرائع سے کام لیا جائے۔عرفان الهی اس لئے میں سب سے پہلے معرفت الہی حاصل کرنے کے معرفتِ الہی کے تین طریقے لئے یہ تین باتیں بتاتا ہوں۔اول یہ کہ انسان دعا کرے۔دوم یہ کہ کوشش کرے۔سوم یہ کہ صحیح طریق سے کوشش کرے۔اس کے بعد جو باتیں میں بتاؤں ان کو یاد کر لو اور پھر کوشش کرو۔اور اس رنگ میں کوشش کرو جو میں بیان کرونگا تو انشاء اللہ ضرور تمہیں کامیابی ہو گی۔ہاں صحیح کوشش کے لئے ایک اور بات ضروری ہے اور وہ یہ کہ وہ صحیح کوشش کا طریق سب پہلوؤں پر حاوی ہونی چاہئے جن کا کسی مقصد میں کامیاب ہونے کے ساتھ تعلق ہے۔مثلاً وہ طالب علم جو انٹرنس کا امتحان دینا چاہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ جہاں تاریخ اور جغرافیہ پڑھے وہاں حساب بھی سیکھے اور اس کے ساتھ وہ باتیں بھی یاد کرے جن کا انٹرنس کے امتحان کے ساتھ تعلق ہے۔لیکن اگر کوئی کسی مضمون کو چھوڑیگا اور اسے یاد نہیں کریگا تو گو دوسرے مضامین میں کتنی ہی محنت اور کوشش صرف کرے کبھی کامیاب نہیں ہو سکے گا۔پس کسی مقصد کے حاصل کرنے کے لئے کوشش کا سب پہلوؤں پر حاوی ہونا ضروری ہے۔اسلام پر اعتراض اور اس کا جواب لوگ کہتے ہیں کہ اسلام میں تنگ ظرفی پائی جاتی ہے۔کیونکہ اسلام کہتا ہے کہ میرے سوا اور کوئی جب حق پر نہیں ہے۔حالانکہ چاہئے یہ تھا کہ کہا جاتا کہ ہر مذہب پر چلنے والا انسان نجات پاسکتا ہے تعجب ہے کہ یہ اعتراض کرنے والے قانون قدرت کی طرف نہیں دیکھتے کہ اس کے ہر ایک کام میں کیا نتیجہ نکل رہا ہے۔وہ کہتے ہیں جب ایک ہندو ایک عیسائی ، ایک آریہ کے دل میں خدا کی محبت ہے اور وہ خدا کو پانے کی کوشش بھی کرتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے وہ خدا کو نہ پائے۔میں کہتا ہوں اس کی وہی وجہ ہے جو لوہاری کا کام سیکھنے کے لئے دھوپ میں کوٹنے سے اس کام کے نہ آنے کی ہے۔جو علم حاصل کرنے کے لئے الٹا لٹکے رہنے سے علم کے نہ آنے کی ہے۔سب لوگ جانتے ہیں کہ جب تک کسی کام کے لئے صحیح کوشش نہ کی جائے اس وقت تک وہ حاصل نہیں ہو سکتا۔پس جب دنیاوی امور میں یہ قانون چلتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ روحانی امور میں بھی یہی قانون نہ چلے۔پس کسی دینی امر میں بھی اس وقت تک کامیابی نہیں ہو سکتی