انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 351 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 351

م جلد۔۳۵۱ عرفان الهی ہوتا ہے۔ہاں ان باتوں کو یاد رکھنے سے یہ فائدہ ہو گا کہ جس طرح لوگ شکایت کرتے ہیں کہ باوجود محنت کرنے کے ان کو کچھ حاصل نہیں ہوتا وہ شکایت تم کو پیدا نہ ہو گی۔اور تم خدا تعالٰی کو انہی صفات کے مطابق دیکھ لو گے جو قرآن کریم میں بیان ہیں انشاء اللہ تعالیٰ۔سب سے پہلی جو بات میں بیان کرنی چاہتا ہوں وہ دعا بغیر ذرائع کے قبول نہیں ہوتی کوشش کرنے کے متعلق خاص ہدایت ہے۔یہ بات خوب اچھی طرح یاد رکھنی چاہئے کہ ہر ایک چیز کے حصول کے کچھ ذرائع ہوتے ہیں۔جب ان ذرائع کو عمل میں نہ لایا جائے وہ چیز حاصل نہیں ہو سکتی۔لوگ کہتے ہیں کہ دعا سے خدا حاصل ہو جاتا ہے۔بے شک دعا بہت بڑی چیز ہے مگر اس کے ساتھ بھی کچھ اور ذرائع کی ضرورت ہے۔اور جب تک وہ نہ ہوں تو وہ بھی قبول نہیں ہو سکتی۔مثلاً کوئی شادی کر کے بیوی کے پاس تو نہ جائے اور دعائیں کرتا رہے کہ میرے ہاں اولاد ہو جائے۔تو کیا اس کی دعا قبول ہو جائیگی ہرگز نہیں۔ایک بزرگ کا قصہ ایک بزرگ کے متعلق لکھا ہے۔ان کے پاس کوئی شخص آیا اور آکر کہا آپ دعا کریں خدا مجھے بیٹا دے۔یہ کہہ کر وہ چل پڑا۔اس سے انہوں نے پوچھا کہاں جاتے ہو۔اس نے کہا کہیں نوکری کرنے جاتا ہوں۔انہوں نے کہا اگر تم نوکری کرنے جا رہے ہو تو میری دعا کیا قبول ہو گی۔تو جب تک ذرائع سے کام نہ لیا جائے صرف دعا کرنے سے کچھ نہیں بن سکتا اور دعا بغیر کوشش کے کوئی ثمرہ نہیں دے سکتی۔دعا ایسی صورت میں کام آتی ہے جب اس کے ساتھ بغیر عمل کے دعا کب مفید ہے عمل ہو۔ہاں دو صورتیں ایسی ہوتی ہیں کہ بغیر عمل کے دعا فائدہ دیتی ہے۔ایک تو یہ کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے انسان کو حکم دے دیا جائے کہ فلاں کام کے لئے دعا کر عمل نہ کر۔یعنی ظاہری سامان کو اس کام کے لئے استعمال نہ کر۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو فرمایا گیا تھا کہ طاعون سے بچنے کے لئے وہ دعا پر زور دیں اور ٹیکا نہ لگوائیں اور نہ آپ کی جماعت ٹیکا لگوائے (کشتی نوح صفحہ ۴ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحہ (۲) تو باوجود اس کے کہ یہ ٹیکا طاعون کا علاج تھا اور ہے خدا تعالیٰ نے آپ کو اس کے لگوانے سے منع کر دیا اور دعا کا حکم دیا اور خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدی جماعت ان ٹیکا لگوانے والوں کی نسبت بہت کم اس مرض کا شکار ہوئی۔