انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 334 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 334

شوم جلد ۴ اسلام میں اختلافات کا آغاز کمزور سے کمزور بہانہ بھی تلاش نہ کر سکے اور آخر اپنے ظالم ہونے اور حضرت عثمان کے بری ہونے کا اقرار کرتے ہوئے انہیں آپ پر تلوار اٹھانی پڑی۔اسی طرح ان واقعات سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کو حضرت عثمان کی خلافت پر کوئی اعتراض نہ تھا۔وہ آخر دم تک وفاداری سے کام لیتے رہے اور جب کہ کسی قسم کی مدد کرنی بھی ان کے لئے ناممکن تھی تب بھی اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر آپ کی حفاظت کرتے رہے۔یہ بھی ان واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ ان فسادات میں حضرت عثمان کے لے انتخاب والیان کا بھی کچھ دخل نہ تھا اور نہ والیوں کے مظالم اس کا باعث تھے کیونکہ ان کا کوئی ظلم ثابت نہیں ہو تا حضرت علی اور حضرت طلحہ اور حضرت زبیر پر خفیہ ریشہ دوانیوں کا بھی الزام بالکل غلط ہے۔ان تینوں اصحاب نے اس وفاداری اور اس ہمدردی سے اس فتنہ کے دور کرنے میں سعی کی ہے کہ سگے بھائی بھی اس سے زیادہ تو کیا اس کے برابر بھی نہیں کر سکتے۔انصار پر جو الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ حضرت عثمان سے ناراض تھے وہ غلط ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ انصار کے سب سردار اس فتنہ کے دور کرنے میں کوشاں رہے ہیں۔فساد کا اصل باعث یہی تھا کہ دشمنان اسلام نے ظاہری تدابیر سے اسلام کو تباہ نہ ہوتے دیکھ خفیہ ریشہ دوانیوں کی طرف توجہ کی اور بعض اکابر صحابہ کی آڑ لے کر خفیہ خفیہ مسلمانوں میں تفرقہ پیدا کرنا چاہا۔جن ذرائع سے انہوں نے کام لیا وہ اب لوگوں پر روشن ہو چکے ہیں۔سزا یافتہ مجرموں کو اپنے ساتھ ملایا اور لٹیروں کو تحریص دلائی۔جھوٹی مساوات کے خیالات پیدا کر کے انتظام حکومت کو کھوکھلا کیا۔مذہب کے پردہ میں لوگوں کے ایمان کو کمزور کیا اور ہزاروں حیلوں اور تدبیروں سے ایک جماعت تیار کی۔پھر جھوٹ سے، جعل سازی سے اور فریب سے کام لے کر ایسے حالات پیدا کر دیئے جن کا مقابلہ کرنا حضرت عثمان اور دیگر صحابہ کے لئے مشکل ہو گیا۔ہم نہیں جانتے کہ انجام کیا ہوتا۔مگر ہم واقعات سے یہ جانتے ہیں کہ اگر اس وقت حضرت عمر کی خلافت بھی ہوتی تب بھی یہ فتنہ ضرور کھڑا ہو جاتا اور وہی الزام جو حضرت عثمان پر لگائے گئے حضرت عمر پر بھی لگائے جاتے کیونکہ حضرت عثمان نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جو حضرت عمرؓ اور حضرت ابو بکر نے نہیں کیا تھا۔حضرت علی کی خلافت کے واقعات چونکہ بوجہ قلت وقت چند منٹ میں بیان کئے گئے تھے اور بہت مختصر تھے اس لئے نظر ثانی کے وقت میں نے اس حصہ کو کاٹ دیا۔