انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 282

انوار العلوم جلد ۴ ۲۸۲ اسلام میں اختلافات کا آغاز ادب کرتے تھے۔حضرت علی کے بعد اگر کسی صحابی پر صحابہ اور دوسرے بزرگوں کی نظر خلافت کے لئے پڑی تو آپ پر پڑی۔مگر آپ نے دنیا سے علیحدگی کو اپنا شعار بنا رکھا تھا۔شعائر دینیہ کے لئے آپ کو اس قدر غیرت تھی کہ بعض دفعہ آپ نے خود عمر بن الخطاب سے بڑی سختی سے بحث کی۔غرض حق گوئی میں آپ ایک کھینچی ہوئی تلوار تھے۔آپ کا انتخاب شام کے لئے نہایت ہی اعلیٰ انتخاب تھا۔کیونکہ بوجہ اس کے کہ حضرت معاویہ دیر سے شام کے حاکم تھے اور وہاں کے لوگوں پر ان کا بہت رعب تھا اور بوجہ ان کی ذکاوت کے ان کے انتظام کی تحقیق کرنا کسی معمولی آدمی کا کام نہ تھا۔اس جگہ کسی دوسرے آدمی کا بھیجا جانا فضول تھا۔اور لوگوں کو اس کی تحقیق پر تسلی بھی نہ ہوتی مگر آپ کی سبقت ایمانی اور غیرت اسلامی اور حریت اور تقوی و زہد ایسے کمالات تھے کہ ان کے سامنے معاویہ دم نہ مار سکتے تھے اور نہ ایسے شخص کی موجودگی میں حضرت معاویہ کا رعب کسی شخص پر پڑ سکتا تھا۔غرض جو لوگ تحقیق کے لئے بھیجے گئے تھے وہ نہایت عظیم الشان اور بے تعلق لوگ تھے اور ان کی تحقیق پر کسی شخص کو اعتراض کی گنجائش حاصل نہیں پس ان تینوں صحابہ کا مع ان دیگر آدمیوں کے جو دوسرے بلاد میں بھیجے گئے متفقہ طور پر فیصلہ دینا کہ ملک میں بالکل امن و امان ہے۔ظلم و تعدی کا نام و نشان نہیں۔حکام عدل و انصاف سے کام لے رہے ہیں اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو یہ کہ لوگوں کو حدود کے اندر رہنے پر مجبور کرتے ہیں ایک ایسا فیصلہ ہے جس کے بعد کسی شک کی گنجائش نہیں رہتی۔اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب فساد چند شریر النفس آدمیوں کی شرارت و عبد اللہ بن سبا کی انگیخت کا نتیجہ تھا۔ورنہ حضرت عثمان اور ان کے نواب ہر قسم کے اعتراضات سے پاک تھے۔حق یہی ہے کہ یہ سب شورش ایک خفیہ منصوبہ کا نتیجہ تھی جس کے اصل بانی یہودی تھے۔جن کے ساتھ طمع دنیا دی میں مبتلاء بعض مسلمان جو دین سے نکل چکے تھے شامل ہو گئے تھے ورنہ امرائے بلاد کا نہ کوئی قصور تھا نہ وہ اس فتنہ کے باعث تھے۔ان کا صرف اسی قدر قصور تھا کہ ان کو حضرت عثمان نے اس کام کے لئے مقرر کیا تھا اور حضرت عثمان کا یہ قصور تھا کہ باوجود پیرانہ سالی اور نقاہت بدنی کے اتحاد اسلام کی رسی کو اپنے ہاتھوں میں پکڑے بیٹھے تھے اور امت اسلامیہ کا بوجھ اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے تھے اور شریعت اسلام کے قیام کی فکر رکھتے تھے۔اور متمردین اور ظالموں کو اپنی حسب خواہش کمزوروں اور بے وارثوں پر ظلم و