انوارالعلوم (جلد 4) — Page 276
العلوم جلد ۲۷۶ اسلام میں اختلافات کا آغاز کی طرف جلا وطن کر دو۔اور امیر معاویہ کے پاس بھیج دو۔ادھر امیر معاویہ کو لکھا کہ کچھ لوگ جو کھلے طور پر فساد پر آمادہ ہیں وہ آپ کے پاس کوفہ سے آدیں گے ان کے گزارہ کا انتظام کر دیں اور ان کی اصلاح کی تجویز کریں۔اگر درست ہو جاویں اور اصلاح کر لیں تو ان کے ساتھ نرمی کرو اور ان کے پچھلے قصوروں سے درگزر کرو اور اگر شرارت پر مصر رہیں تو پھر ان کو شرارت کی سزا دو۔حضرت عثمان کا یہ حکم نہایت دانائی پر مبنی تھا کیونکہ ان لوگوں کا کوفہ میں رہنا ایک طرف تو ان لوگوں کے جو شوں کو بھڑکانے والا تھا جو ان کی شرارتوں پر پوری طرح آگاہ تھے اور خطرہ تھا کہ وہ جوش میں آکر ان کو تکلیف نہ پہنچا بیٹھیں اور دوسری طرف اس لحاظ سے بھی مضر تھا کہ وہ لوگ وہاں کے باشندے اور ایک حد تک صاحب رسوخ تھے۔اگر وہاں رہتے تو اور بہت سے لوگوں کو خراب کرنے کا موجب ہوتے ؟ مگر یہ حکم اس وقت جاری ہوا جب اس کا چنداں فائدہ نہ ہو سکتا تھا۔اگر ابن عامر والی بصرہ ابن السوداء کے متعلق بھی حضرت عثمان سے مشورہ طلب کرتا اور اس کے لئے بھی اسی قسم کا حکم جاری کیا جاتا تو شاید آئندہ حالات ان حالات سے بالکل مختلف ہوتے۔مگر مسلمانوں کی حالت اس وقت اس بات کی مقتضی تھی کہ ایسی ہی قضاء د قدر جاری ہو اور وہی ہوا۔یہ لوگ جو جلا وطن کئے گئے اور جن کو ابن سبا کی مجلس کا رکن کہنا چاہئے تعداد میں دس کے قریب تھے (گو ان کی صحیح تعداد میں اختلاف ہے) حضرت معاویہ نے ان کی اصلاح کے لئے پہلے تو یہ تدبیر کی کہ ان سے بہت اعزاز و احترام سے پیش آئے۔خود ان کے ساتھ کھانا کھاتے اور اکثر فرصت کے وقت ان کے پاس جا کر بیٹھتے۔چند دن کے بعد انہوں نے ان کو نصیحت کی اور کہا کہ میں نے سنا ہے کہ تم لوگوں کو قریش 10 سے نفرت ہے ایسا نہیں چاہئے۔اللہ تعالیٰ نے عرب کو قریش کے ذریعہ سے ہی عزت دی ہے۔تمہارے حکام تمہارے لئے ایک ڈھال کے طور پر ہیں۔پس ڈھالوں سے جدا نہ ہو وہ تمہارے لئے تکالیف برداشت کرتے اور تمہاری فکر رکھتے ہیں۔اگر اس امر کی قدر نہ کرو گے تو خدا تعالی تم پر ایسے حکام مقرر کرے گا جو تم پر خوب ظلم کریں گے اور تمہارے صبر کی قدر نہ کریں گے اور تم اس دنیا میں عذاب میں مبتلاء ہو گے۔اور اگلے جہان میں بھی ان ظالم بادشاہوں کے ظلم کی سزا میں شریک ہو گے کیونکہ تم ہی ان کے قیام کے باعث ہنو گے۔حضرت معاویہ کی اس نصیحت کو سن کر ان میں سے ایک نے جواب دیا