انوارالعلوم (جلد 4) — Page 271
اسلام میں اختلافات کا آغاز اب سب بلاد میں شرارت کے مرکز قائم ہو گئے۔اور ابن السوداء نے ان تمام لوگوں کو جو سزایافتہ تھے یا ان کے رشتہ دار تھے یا اور کسی سبب سے اپنی حالت پر قانع نہ تھے نہایت ہوشیاری اور دانائی سے اپنے ساتھ ملانا شروع کیا۔اور ہر ایک کے مذاق کے مطابق اپنی غرض کو بیان کرتا تاکہ اس کی ہمدردی حاصل ہو جاوے۔مدینہ شرارت سے محفوظ تھا اور شام بالکل پاک تھا۔تین مرکز تھے جہاں اس فتنہ کا مواد تیار ہو رہا تھا بصرہ کوفہ اور مصر مصر مرکز تھا۔مگر اس زمانہ کے تجربہ کار اور فلسفی دماغ انارکسٹوں کی طرح ابن السوداء نے اپنے آپ کو خلف الاستار رکھا ہوا تھا۔سب کام کی روح وہی تھا مگر آگے دوسرے لوگوں کو کیا ہوا تھا۔بوجہ قریب ہونے کے اور بوجہ سیاسی فوقیت کے جو اس وقت بصرہ اور کوفہ کو حاصل تھی یہ دونوں شہران تغیرات میں زیادہ حصہ لیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔لیکن ذرا بار یک نگاہ سے دیکھا جاوے تو تاریخ کے صفحات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان تمام کارروائیوں کی باگ مصر میں بیٹھے ہوئے ابن السوداء کے ہاتھ میں تھی۔میں پہلے بیان کر چکا ہوں کہ کوفہ میں ایک جماعت نے ایک شخص علی بن حیسمان الخزاعی کے گھر پر ڈاکہ مار کر اس کو قتل کر دیا تھا اور قاتلوں کو دروازہ شہر پر قتل کر دیا گیا تھا۔ان نوجوانوں کے باپوں کو اس کا بہت صدمہ تھا اور وہ اس جگہ کے والی ولید بن عتبہ سے اس کا بدلہ لینا چاہتے تھے اور منتظر رہتے تھے کہ کوئی موقع ملے اور ہم انتقام لیں۔یہ لوگ اس فتنہ انگیز جماعت کے ہاتھ میں ایک عمدہ ہتھیار بن گئے جن سے انہوں نے خوب کام لیا۔ولید سے بدلہ لینے کے لئے انہوں نے کچھ جاسوس مقرر کئے تاکہ کوئی عیب ولید کا پکڑ کر ان کو اطلاع - دیں۔جاسوسوں نے کوئی کارروائی تو اپنی دکھانی ہی تھی۔ایک دن آکر ان کو خبر دی کہ ولید اپنے ایک دوست ابو زبیر کے ساتھ مل کر جو عیسائی سے مسلمان ہوا تھا شراب پیتے ہیں۔ان مفسدوں نے اٹھ کر تمام شہر میں اعلان کرنا شروع کر دیا کہ لو یہ تمہارا والی ہے۔اندر اندر چھپ چھپ کر اپنے دوستوں کے ساتھ شراب پیتا ہے۔عامۃ الناس کا تو جوش بے قابو ہوتا ہی ہے اس بات کو سن کر ایک بڑی جماعت ان کے ساتھ ہو گئی اور ولید کے گھر کا سب نے جاکر محاصرہ کر لیا۔دروازہ تو کوئی تھا ہی نہیں۔سب بے تحاشا مسجد میں سے ہو کر اندر گھس گئے (ان کے مکان کا دروازہ مسجد میں کھلتا تھا) اور ولید کو اس وقت معلوم ہوا جب وہ ان کے سر پر جا کھڑے ہوئے۔انہوں نے ان کو دیکھا تو گھبرا گئے۔اور جلدی سے کوئی چیز چارپائی کے نیچے کھسکا دی۔