انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 270

لوم جلد ۲۷۰ اسلام میں اختلافات کا آغاز غلام) کے نام سے یاد کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خود بھی یہ لفظ استعمال کرتے تھے اور باوجود اس لفظ کی مخالفت کرنے کے بے تحاشا اس لفظ کا آپ کی زبان پر جاری ہو جانا اس امر کی شہادت ہے کہ یہ صحابہ کا ایک عام محاورہ تھا۔مگر ابن السوداء کے دھوکا دینے سے آپ کے ذہن سے یہ بات نکل گئی۔یہ فتنہ جسے بولشوزم کا فتنہ کہنا چاہئے حضرت معاویہ کی حسن تدبیر سے شام میں تو چمکنے نہ پایا۔مگر مختلف صورتوں میں یہ خیال اور جگہوں پر اشاعت پا کر ابن السوداء کے کام میں محمد ہو گیا۔ابن السوداء شام سے نکل کر مصر پہنچا۔اور یہی مقام تھا جسے اس نے اپنے کام کا مرکز بنانے کے لئے چنا تھا۔کیونکہ یہ مقام دارالخلافہ سے بہت دور تھا اور دوسرے اس جگہ صحابہ کی آمد و رفت اس کثرت سے نہ تھی جتنی کہ دوسرے مقامات پر۔جس کی وجہ سے یہاں کے لوگ دین سے نسبتا کم تعلق رکھتے تھے اور فتنہ میں حصے لینے کے لئے زیادہ تیار تھے چنانچہ ابن السوداء کا ایک نائب جو کوفہ کا باشندہ تھا اور جس کا ذکر آگے آوے گا ان واقعات کے تھوڑے ہی عرصہ بعد جلا وطن کیا گیا تو حضرت معاویہ کے اس سوال پر کہ نئی پارٹی کے مختلف ممالک کے ممبروں کا کیا حال ہے۔اس نے جواب دیا کہ انہوں نے مجھ سے خط و کتابت کی ہے اور میں نے ان کو سمجھایا ہے اور انہوں نے مجھے نہیں سمجھایا۔مدینہ کے لوگ تو سب سے زیادہ فساد کے شائق ہیں اور سب سے کم اس کی قابلیت رکھتے ہیں۔اور کوفہ کے لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر نکتہ چینی کرتے ہیں لیکن بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب سے خوف نہیں کھاتے اور بصرہ کے لوگ اکٹھے حملہ کرتے ہیں مگر پراگندہ ہو کر بھاگتے ہیں۔ہاں مصر کے لوگ ہیں جو شرارت کے اہل سب سے زیادہ ہیں۔مگر ان میں یہ نقص ہے کہ پیچھے نادم بھی جلدی ہو جاتے ہیں۔اس کے بعد شام کا حال اس نے بیان کیا کہ وہ اپنے سرداروں کے سب سے زیادہ مطیع ہیں اور اپنے گمراہ کرنے والوں کے سب سے زیادہ نا فرمان ہیں۔کہ یہ رائے ابن الكواء کی ہے جو ابن السوداء کی پارٹی کے رکنوں میں سے تھا اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مصر ہی سب سے عمدہ مقام تھا جہاں ابن السوداء ڈیرہ لگا سکتا تھا۔اور اس کی شرارت کی باریک بین نظر نے اس امر کو معلوم کر کے اس مقام کو اپنے قیام کے لئے چنا اور اسے فساد کا مرکز بنا دیا اور بہت جلد ایک جماعت اس کے ارد گرد جمع ہو گئی۔