انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxvi of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page xxvi

ر العلوم جلد ۴ " ۱۷ تقدیر الهی ۱۹۱۹ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر حضور نے جو دسمبر کو تقدیر الہی کے نہایت مشکل اور دقیق مسئلہ پر عارفانہ خطاب فرمایا۔اپنے اس مضمون کے متعلق آپ نے فرمایا کہ : اب تک میں جو مضمون بیان کرتا رہا ہوں وہ اعمال کے متعلق تھے مگر اب کے جو مضمون بیان کرنا ہے وہ ایمان کے متعلق ہے اور چونکہ ایمان ہی جڑ ہے اس لئے وہ مضمون نہایت اہم ہے۔میں نے خدا تعالٰی سے عاجزانہ طور پر کہا کہ اے خدا اگر اس مضمون کا سنانا مناسب نہیں تو میرے دل میں ڈال دے کہ میں اسے نہ سناؤں لیکن مجھے یہی تحریک ہوئی کہ سناؤں گو وہ مضمون مشکل ہے اور اس کے سمجھنے کے لئے بہت محنت اور کوشش کی ضرورت ہے لیکن اگر آپ لوگ اسے سمجھ لیں گے تو بہت بڑا فائدہ اٹھا ئیں گے۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اس خطاب کے متعلق فرماتے ہیں: حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کا اس موضوع پر ایک ایسے جلسہ عام سے خطاب فرمانا جہاں تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ - ذہین اور بلید ہر قسم کے لوگ جمع تھے یقینا کوئی معمولی کام نہ تھا آپ نے جس عمدگی سے اس مضمون کو ادا کیا بلاشبہ وہ آپ ہی کا حق تھا۔یہ تقریر کیا تھی علم کلام کا ایک شاہکار تھا۔مسئلہ قضاء و قدر کی اہمیت اور آنحضرت ﷺ کے ارشادات بیان کرنے کے بعد آپ نے اس موضوع پر اظہار خیال فرمایا کہ مسئلہ تقدیر پر ایمان اور وجود باری تعالی پر ایمان لانا لازم و ملزوم ہیں۔اس کے بعد آپ نے قضاء و قدر کے متنازعہ فیہ نظریات پر بحث فرما کر آنحضور کے بعض ارشادات میں تطبیق فرمائی اور اس کے بعد مسئلہ تقدیر کے نہ سمجھنے کے نتیجہ میں انسان کو جو بڑی بڑی ٹھوکریں لگی ہیں ان کا ذکر فرمایا۔۔۔۔پھر وحدت الوجود کے عقیدے کی غلطیاں ظاہر کرتے ہوئے چھ قرآنی آیات سے نہایت لطیف اور ٹھوس دلائل پیش کر کے اس عقیدہ کا رد فرمایا۔بعد ازاں اس کی دوسری انتہاء کو بھی غلط ثابت فرمایا اور اس خیال کی بدلائل تردید کی کہ خدا گویا کچھ نہیں کر سکتا اور جو کچھ بھی ہے وہ تدبیر ہی ہے۔علم الہی اور تقدیر الہی کو خلط ملط کرنے کے نتیجہ میں انسانی فکر نے جو ٹھوکریں کھائی ہیں اس کا نہایت عمدہ تجزیہ کر کے اس مسئلہ کو خوب نکھارا"