انوارالعلوم (جلد 4) — Page 228
العلوم جلد ۴ ۲۳۸ اصلاح اعمال کی تلقین اللہ ہونے کا انکار کرے تو کرے مگر اس بات کا انکار نہیں کر سکتی کہ ان کے زمانہ میں بھی ایک بہر اٹھی تھی۔اسی طرح یہ اور بات ہے کہ رسول کریم ﷺ کو تمام لوگ خدا تعالی کا نبی نہ مانیں مگر اس میں شک نہیں کہ یہ بات ماننے کے لئے ساری دنیا مجبور ہے کہ آپ کے ذریعہ دنیا میں ایک ایسا تغیر ضرور پیدا ہوا جو اس سے پہلے کبھی نہیں پیدا ہوا تھا۔یہ نمایاں اور ہر ایک کو محسوس ہونے والا اثر ہے۔پھر پوشیدہ اثر جس کو عام لوگ محسوس نہیں کرتے۔مگر واقعات روحانی هر کادر پرده اثر بتاتے ہیں کہ چھوٹے سے چھوٹا عمل دنیا میں پھیلتا ہے اور ایک ہی جگہ نہیں ٹھہر جاتا اور جو مشین چلائی جاتی ہے وہ ٹھرتی نہیں بلکہ آگے ہی آگے جاتی ہے اور جس طرح ہماری تمام حرکات اس جو میں پھیل جاتی ہیں اور ان کے اثرات دور تک پہنچتے ہیں۔اسی طرح روحانی دنیا میں جو لہر اٹھتی ہے وہ بھی پھیلتی ہے اور دور دور تک پہنچتی ہے چنانچہ رسول کریم ﷺ کی مثال جو نمایاں طور پر تاریخ میں محفوظ ہے اس کو لیتے ہیں۔شرک کی رو رسول کریم ا ے ایک ایسے زمانہ میں مبعوث ہوئے جس میں تمام اقوام عالم عموماً شرک میں مبتلاء تھیں عموماً کا لفظ میں نے اس لئے استعمال کیا ہے کہ اس زمانہ میں بعض ایسے افراد بھی تھے جو فرداً فرداً وحدانیت کے قائل تھے لیکن ان کا کوئی اثر نہ تھا۔عام طور پر ہر جگہ شرک ہی شرک تھا اور اس زمانہ میں ایک سے زیادہ خدا ماننا ایک فیشن کے طور پر ہو گیا تھا۔جس کا ثبوت اس طرح ملتا ہے کہ جو قومیں توحید مانتی تھیں ان میں بھی کسی یہ کسی رنگ میں ایک سے زیادہ خدا تسلیم کئے جاتے تھے۔بنی اسرائیل جن کی ساری کتابیں کہہ رہی تھیں کہ ایک کے سوا کسی کو خدا نہ مانو وہ بھی کہتے تھے کہ عزیر خدا کا بیٹا ہے۔اسی طرح زرتشتی جن کے مذہب کی بنیاد ابتداء میں خالص توحید پر تھی وہ بھی ایسی حالت میں تھے کہ بالکل شرک میں مبتلاء تھے۔ادھر ہندوستان میں بت پرستی کی یہ حالت تھی کہ گو وہ کہتے تھے ایک خدا کی پرستش کرنی چاہئے لیکن قسم قسم کے بتوں کو پوجتے اور ان کی پرستش کرتے تھے اور مسیحی تو حضرت عیسی کو خدا کا بیٹا بنا ہی چکے تھے۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ اس زمانہ میں تمام اقوام باوجود شرک کی منکر ہونے کے توحید پر قائم نہ رہی تھیں۔گویا وہ ڈرتی تھیں کہ اگر توحید پر قائم رہیں تو مٹ جائیں گی جیسا کہ آج کل پردہ کے متعلق عام لوگوں کا خیال ہے اور اس کے خلاف اس بناء پر ایک رو چلی ہوئی ہے جس سے متأثر ہو کر مسلمان بھی کہتے ہیں کہ اب یا تو پردہ