انوارالعلوم (جلد 4) — Page 227
دم جلد " ۲۲ اصلاح اعمال کی تلقین جس چیز کو مسلمان کا ہاتھ لگ جائے وہ ناپاک ہو جاتی ہے اور مسلمان اس پر چڑتے اور غصے ہوتے ہیں اور کسی حد تک ان کا غصہ جائز بھی ہوتا ہے مگر بنی اسرائیل اس قدر ذلیل سمجھے جاتے تھے کہ باز شاہ ان کو دیکھنا بھی برا سمجھتا تھا اور منہ پر نقاب ڈال کر باہر نکلتا تھا۔بنی اسرائیلی اپنی ذلّت چھپانے کے لئے کہتے تھے کہ فرعون کو ڑھی ہوتے ہیں۔اس لئے منہ پر نقاب ڈال کر باہر نکلتے ہیں مگر تاریخ بتلاتی ہے کہ وہ اس لئے نقاب ڈالتے تھے کہ ناپاک بنی اسرائیل پر نظر نہ پڑے تو جو لوگ ایسے ناپاک سمجھے جاتے تھے اور جن سے ادنیٰ سے ادنی مثلا اینٹیں تھوانے کا کام لیا جاتا تھا اور وہ بغیر کسی شور و شر اور ناراضگی کے ایسے کام کرتے تھے ان میں کبھی ذلت سے بچنے کا کچھ جوش آیا بھی تو فور ادب گیا اور پھر اسی طرح طبعی دنایت سے کام کرتے رہے۔ایسی گری ہوئی اور ذلیل قوم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام آئے اور ان کے ذریعہ ایسی لہر چلائی جو پھیلتے پھیلتے دور نکل گئی۔اس کے بعد گو اس کا اثر نظر نہیں آتا مگر جیسا کہ میں ثابت کروں گا کوئی لہرایسی نہیں جو اثر نہ کرے۔اس کے بعد چھوٹی چھوٹی لہریں پیدا ہوتی رہیں مگر تیرہ سو سال تو بعد ایک بڑی لہر پیدا ہوئی جو دنیا کے اکثر حصہ پر پھیل گئی۔اور پھر سب سے آخر اور سب سے بڑی لہر رسول کریم ﷺ کے زمانہ کی لہر رسول کریم ﷺ کے ذریعہ پیدا ہوئی اس وقت جبکہ دنیا میں لوگ غافل ہو کر تاریکی میں بھٹک رہے تھے اور سب پر مُردنی چھا گئی تھی رسول کریم کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے روحانیت کے دریا میں پُر جوش لہر پیدا کی۔جو کسی خاص زمانہ اور خاص مقام سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ تمام دنیا کے لئے ہے گو یہ لہر ملک عرب میں پیدا ہوئی جو بظاہر رتبہ اور درجہ میں کوئی امتیاز نہ رکھتا تھا۔مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے پھیلتے پھیلتے تمام دنیا میں پھیل گئی یہ تو اس کا ظاہری اثر ہے جو دنیا کو نظر آرہا ہے اور ہر شخص خواہ وہ کافر ہو یا مؤمن محسوس کرتا ہے۔یورپ کے مؤرخ بھی اس کا اعتراف کرتے ہیں اور اسلام کے مؤرخ بھی۔یہودی بھی اس کو مانتے ہیں اور عیسائی بھی۔ا ہونے والی لہروں کا اعتراف ہر بات دنیا تسلیم کرے یا نہ انبیاء کے ذریعہ پیدا ہونے والی لہروں کا اعتراف کرے کہ حضرت موسیٰ خدا کے نبی تھے لیکن اس میں شک نہیں کہ کوئی قوم اس سے انکار نہیں کر سکتی کہ حضرت موسیٰ کے ذریعہ ایک ایسی بر ضرور پیدا ہوئی جو تمام بنی اسرائیل میں پھیل گئی پھر دنیا حضرت مسیح کے نبی