انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 189

العلوم جلد ۴ ۱۸۹ حقیقته الرؤيا جملہ کے یہ معنی ہوئے کہ اگر نبض نہ چلتی ہوتی۔تو یہ جو ان کے دل کی حرکت تیز ہوتی ہے اور پھر ٹھہر جاتی ہے۔اور پھر تیز ہوتی ہے۔پھر ٹھر جاتی ہے۔اس کا خاتمہ کر دیا جاتا ہے۔یعنی یہ ہلاک ہو جاتے۔جس کا مطلب مجھے یہ سمجھایا گیا کہ یہ جو ان میں بار بار جوش پیدا ہوتا ہے اور پھر دب جاتا ہے۔پھر پیدا ہوتا ہے اور پھر دب جاتا ہے۔یہ نتیجہ ہے ان کی ظاہری کوششوں کا اور اصل کا اثر فرع پر نہیں پڑ رہا۔بلکہ فرع کی زندگی سے اصل پر بھی ایک اثر پڑ جاتا ہے۔اگر یہ حرکات اور یہ کوششیں ان کی نہ ہوتیں تو یہ جو زندگی کے آثار ان میں پیدا ہو جاتے ہیں یہ مٹا دیئے جاتے۔گویا كُلا تُمِد هَؤُلَاءِ وَ هَؤلاء کے ماتحت ان کو یہ بات حاصل ہو رہی ہے۔غرض خواب میں نئے علوم بھی بتائے جاتے ہیں۔اور یہ خواب کی صداقت کا ایک ثبوت ہوتا ہے۔پانچویں علامت یہ ہے کہ بعض دفعہ ایک مؤمن کو ایک رؤیا آتی ہے اور اسی مضمون کی وسروں کو بھی آجاتی ہے اور یہ شیگان کے قبضہ میں نہیں ہے کہ ایک ہی بات کے متعلق کئی ایک کو رؤیا کرا دے۔حضرت مسیح موعود نے بھی اس علامت کے متعلق لکھا ہے چنانچہ آئینہ کمالات اسلام میں آپ کا جو خط نواب صاحب کے نام ہے اس میں آپ نے لکھا ہے کہ کچھ آدمی مل کر استخارہ کریں اور جو کچھ بتایا جائے اس کو آپس میں ملا ئیں۔جو بات ایک دوسرے سے مل جائے گی وہ کچی ہو گی۔پھر رسول کریم بھی فرماتے ہیں بَرَاهَا الْمُسْلِمُ اَوْ تُرَى لَهُ (ترمذی، ابواب الرؤيا باب ذهبت النبوة وبقيت المبشرات، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مؤمن کو ایک رؤیا دکھائی جاتی ہے یا اوروں کو اس کے لئے دکھائی جاتی ہے۔لیکن شیطان کو ایسا کرنے کا تصرف حاصل نہیں ہوتا۔یہ معیار ہم میں اور ہمارے مخالفین میں بہت کھلا فیصلہ کر یتا ہے۔ہم جب کئی ایک لوگوں کی خوابیں ایک ہی مطلب کی اپنے متعلق پیش کرتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ حدیث النفس ہیں۔مگر دیکھو رسول کریم WATER فرماتے ہیں توى له من اوروں کو بھی دکھائی جاتی ہیں۔اور حضرت مسیح موعود کہتے ہیں کہ دو شخصوں کی خوابوں کو آپس میں ملا کر دیکھ لو۔اگر مل جائیں تو وہ بچی ہوں گی۔لیکن ہمارے متعلق دو کو نہیں بلکہ سینکڑوں کو آئیں۔پھر ان لوگوں کو آئی ہیں جو ہمارا نام بھی نہ جانتے تھے حتی کہ ہندوؤں کو بھی آئی ہیں۔چنانچہ ایک ہندو نے خواب میں دیکھا۔کہ میں اور حضرت صاحب گھوڑوں پر سوار جا رہے ہیں اور میرا گھوڑا آپ سے آگے ہے"۔اور مجدد صاحب سرہندی کے تجربہ سے ظاہر ہے کہ مامور سے اس کے مرید کے گھوڑے کے آگے ہونے کی تعبیر اس مرید کا اس کا