انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 168

وہ رالعلوم جلد ۴ IMA حقیقته الرؤيا وہ گا۔کیونکہ وہ بھی اسی بات کے مدعی ہوں گے جس کے ہم ہیں۔لیکن جو کچھ وہ پیش کریں گے ؟ ہ نہیں ہو گا جو ہم پیش کرتے ہیں بلکہ اس کے بالکل خلاف ہو گا۔اس لئے یہی خطرناک دشمن ہوں گے۔ابھی تک ہماری جماعت نے اس خطرہ کو محسوس نہیں کیا۔مگر میرے دل میں خدا نے آج سے دو سال پہلے یہ بات ڈالی تھی کہ ہماری ترقی کے راستہ میں یہی جماعت روک بنے گی۔اس لئے میں نے ان کی باتوں کا خوب مطالعہ کیا ہے اور خدا کے فضل سے ان کے شر سے محفوظ مضمون رہنے کا توڑ بھی نکالا ہے۔جس کے متعلق ارادہ ہے کہ رسالہ ریویو آف ریلیجنز میں لکھوں اور اس کا انگریزی ترجمہ یورپ میں بھی تقسیم کیا جائے۔یہ گروہ مدعی ہے کہ ہمیں بھی خدائی الہام ہوتا ہے حالانکہ مذہب اسلام سے ان لوگوں کا کوئی تعلق اور واسطہ نہیں۔ہم کہتے ہیں کہ صرف مذہب اسلام پر ہی چلنے سے خدائی الہام ہو سکتا ہے۔اب اگر ان کی بات درست ثابت ہو جائے تو پھر اسلام کا کچھ باقی نہیں رہتا۔میں نے ان کی کتابوں کا خوب مطالعہ کیا ہے۔اس وقت ان کے متعلق تفصیلی بحث تو نہیں ہو سکتی مگر مختصر طور پر کچھ بیان کرتا ہوں۔ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اس قسم کی خوابیں آتی ہیں اور یہ بھی کہ اس قسم کی مشق رکھنے والے لوگ جب چاہیں کچھ نہ کچھ دیکھ لیتے ہیں۔مگر ساتھ ہی اس کے ماننے میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ شیطانی خواہیں ہوتی ہیں۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہر ایک مذہب کا آدمی جب اپنے مذہب کے متعلق سوچتا ہے تو اسے یہی بتایا جاتا ہے کہ تمہارا مذہب سچا ہے۔ایک ہندو کو ہندو مذہب سچا دکھائی دیتا ہے۔ایک عیسائی کو عیسائیت کچی نظر آتی ہے۔ایک یہودی کو یہودیت کچی دکھائی جاتی ہے۔اور ایک مسلمان کو اسلام سچا دکھائی دیتا ہے۔لیکن اگر یہ نظارے خدا کی طرف سے ہوں تو پھر ایسا نہیں ہو سکتا۔پس یہ شیطان ہی کا کام ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ نسی اور مخول اور تماشہ کرتا ہے۔میں نے ایسے لوگوں کے بہت سے تجربات کو جمع کیا ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی ایک بات پر کبھی دو کا بھی اتفاق نہیں ہو تا ہر ایک اپنی اپنی سناتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ کی طرف سے جو الہام ہوتے ہیں ان کے پانے والوں میں یہ بات نہیں ہوتی۔چنانچہ دیکھ لو جتنے انبیاء آئے ہیں وہ ایک ہی تعلیم لے کر آئے ہیں۔کسی ایک بات میں بھی ان کا اختلاف نہیں ہے۔لیکن ان کسی طریق پر خواہیں دیکھنے والوں میں سے دو کا بھی کسی ایک بات پر اتفاق نہیں ہے بلکہ سخت اختلاف ہے۔پس ان کا اختلاف ثابت کر رہا ہے کہ ان کو جو