انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 166 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 166

انوار العلوم جلد ۴ حقیقته الرؤيا سیکھیں۔دینے سے منشاء الہی یہ تھا کہ مسلمان اس ذریعہ سے ایک بہت بڑا اور ضروری سبق اور جو سبق اس میں سکھایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ دیکھو لڑائی جھگڑے کا نتیجہ کیسا خطرناک نکلتا ہے۔صرف دو ہی شخص آپس میں لڑ رہے تھے کہ ان کی وجہ سے ایک بہت بڑے انعام کا پتہ بتلایا ہوا بھلا دیا گیا۔اب اس طرح کرو کہ اس وقت کے پانے کے لئے رمضان کی آخری دس راتوں میں کوشش کرو اس میں یہ بتلایا گیا ہے کہ دیکھو صرف دو آدمیوں کی لڑائی جھگڑے سے جو نقصان پہنچا ہے اس کی تلافی کے لئے دس گنا زیادہ کوشش اور سعی کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر زیادہ لڑیں گے تو اس کے نقصان کی تلافی کے لئے کس قدر کوشش کرنی پڑے گی۔اگر یہ دو انہ لڑتے تو پھر اس قدر محنت اور مشقت کے برداشت کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔یہ ایک بہت بڑا سبق تھا جس کو اگر مسلمان یاد رکھتے تو دنیا میں کبھی ذلیل و خوار نہ ہوتے۔لیکن افسوس کہ انہوں اس کا خیال نہ رکھا۔پھر اگر اس سال کی لیلتہ القدر کا وقت آنحضرت ا کو یاد رہتا اور آپ دوسروں کو بتا دیتے تو وہ اسی سال کام آسکتا تھا۔کیونکہ ہر سال الگ دن میں یہ وقت آتا ہے۔اب بھلا دینے کی صورت میں جو سبق سکھایا گیا وہ بہت اہم اور فائدہ بخش ہے اور ایسا سبق ہے کہ جتنا بھی اس پر غور کیا جائے اتنا ہی زیادہ مفید معلوم ہوتا ہے۔اس کے علاوہ بھلا دینے کی اور بھی کئی ایک وجوہات ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بات کے متعلق ہو شیار کرنا چاہتا ہے۔مگر اس پر سے بالکل پردہ نہیں اٹھانا چاہتا۔اس کے لئے الہام اور خواب دکھا کر بھلا دیتا ہے۔اس طرح انسان کے قلب پر ایک اثر اور نقش قائم رہتا ہے۔اس اثر کے قائم رہنے کا ثبوت یہ ہے کہ کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے۔انسان کسی بات کے متعلق سوچتا ہے مگر اسے یاد نہیں آتی۔لیکن کسی اور وقت وہ خود بخود بغیر اس کے سوچے کے اسے یاد آجاتی ہے۔اس کی کیا وجہ ہے؟ - یہی کہ اس کا دماغ اپنے طور پر اس کی تلاش اور جستجو میں مصروف تھا مگر اس کو یہ معلوم نہ تھا کہ میرا دماغ کام کر رہا ہے۔پس اسی طرح ایک دفعہ ایک خواب بظاہر بھول جاتی ہے اور انسان کے دماغ پر اس کا کوئی اثر معلوم نہیں ہو تا مگر فی الواقعہ دماغ پر اس کا اثر باقی ہوتا ہے اور دماغ اپنے طور پر اس سے فائدہ اٹھا رہا ہوتا ہے۔گو اس انسان کو معین طور پر معلوم نہیں ہو تا کہ اس کا کیا اثر میرے قلب پر ہے۔پس بعض دفعہ مصلحت الہی یہی چاہتی ہے کہ ایک رویا کے الفاظ محفوظ نہ رہیں لیکن ان کا اثر محفوظ رہے اور اس کے لئے ایک شخص کو رویا دکھا کر یا الہام کر کے نظارہ یا الفاظ بھلا دیئے جاتے ہیں۔جس سے فائدہ بھی