انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xix of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page xix

انوار العلوم جلد ۴ شرارت اور فتنہ پردازی پر یہی کہتے رہے کہ میں مسلمانوں کے خون سے اپنا ہاتھ رنگنا نہیں چاہتا۔کبار صحابہ اور حضرت معاویہؓ نے اس سلسلہ میں قیام امن کے لئے بعض تجاویز پیش کیں مگر حضرت عثمان رحم دلی کے طریق پر ہی قائم رہے۔بلکہ معترضین کے منہ بند کرنے کے لئے ان کے مطالبات بھی جائز حد تک مان لیتے رہے۔اختلاف روایات اور تاریخی حالات کو صحیح طور پر سمجھنے کے لئے ایک نہایت ضروری اور لازمی امر بیان کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں: اس زمانہ کی تاریخ کے متعلق بہت احتیاط کی ضرورت ہے کیونکہ اس زمانہ کے بعد کوئی ایسا زمانہ نہیں آیا جو ایک یا دوسرے فریق سے ہمدردی رکھنے والوں سے خالی ہو اور یہ بات تاریخ کے لئے نہایت مضر ہوتی ہے کیونکہ جب سخت عداوت یا نا واجب محبت کا دخل ہو روایت کبھی بعینہ نہیں پہنچ سکتی۔۔۔۔تاریخ کی تصحیح کا یہ زریں اصل ہے کہ واقعات عالم ایک زنجیر کی طرح ہیں کسی منفرد واقعہ کی صحت معلوم کرنے کے لئے اسے زنجیر میں پرو کر دیکھنا چاہئے کہ وہ کڑی ٹھیک اپنی جگہ پر پروئی بھی جاتی ہے کہ نہیں"۔حضور کی تحقیق کا خلاصہ یہ ہے: ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عثمان اور دیگر صحابہ ہر ایک فتنہ سے یا عیب سے پاک تھے بلکہ ان کا رویہ نہایت اعلیٰ اخلاق کا مظہر تھا اور ان کا قدم نیکی کے اعلیٰ مقام پر قائم تھا"۔اور یہ کہ : " صحابہ کو حضرت عثمان کی خلافت پر کوئی اعتراض نہ تھا وہ آخر دم تک وفاداری سے کام لیتے رہے۔۔۔حضرت علی اور حضرت طلحہ اور حضرت زبیر پر خفیہ ریشہ دوانیوں کا الزام بھی بالکل غلط ہے۔۔۔انصار پر جو الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ حضرت عثمان سے ناراض تھے وہ غلط ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ انصار کے سب سردار اس فتنہ کے دور کرنے میں کوشاں رہے ہیں۔" -۱۲ عرفان الهی ۱۶- مارچ ۱۹۱۹ ء کے جلسہ سالانہ پر حضور نے "عرفانِ الہی جیسے اہم موضوع پر تقریر فرمائی۔