انوارالعلوم (جلد 4) — Page 161
141 حقیقته الرؤيا کسی اندھے کو خواب میں سرخ خون دکھا دیا جائے تو بیدار ہو کر وہ کیا سمجھے گا کہ مجھے کیا دکھایا گیا ہے کچھ بھی نہیں۔لیکن اگر اسے جنگ کی آواز سنائی جائے تو وہ فورا بتا دے گا کہ لڑائی اور جنگ کی طرف مجھے اشارہ کیا گیا ہے۔پس یہی وجہ ہے جس کے لئے ضروری تھا کہ اندھے کو خواب میں واقعات کو متمثل کر کے دکھایا نہ جائے بلکہ اس کو آنے والے واقعات کا علم کان ناک یا زبان یا جس کے ذریعہ سے دیا جائے۔خواب کے متعلق تحقیقات کرنے والے لوگوں کے مخالفین کی تحقیقات کے مفید نتائج تجارب سے ہمیں اپنے مطلب کی ایک بات حاصل ہو جاتی ہے۔اور ایک عظیم الشان دلیل انبیاء کی صداقت میں ہمیں ملتی ہے جو یہ ہے کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری تحقیقات سے ثابت ہو چکا ہے کہ خواہیں اور الہام عورتوں کو بہت زیادہ ہوتے ہیں اور مردوں کو کم۔اور اس سے اسلام کے دعوئی کی صداقت ثابت ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا کی طرف سے بھی خوابیں آتی ہیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جن لوگوں کو کثرت سے خواب اور الہام ہوتا ہے وہ ہمیشہ مرد ہی ہیں عورتوں سے کبھی کوئی نبی نہیں ہوئی۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث النفس اور دماغی بناوٹ کے ذریعہ خوابوں کے آنے کے علاوہ اور بھی ذرائع خواب * والهام کے ہیں۔کیونکہ حدیث النفس کی نسبت ثابت ہے کہ اس کا زیادہ اثر عورتوں پر پڑتا ہے۔لیکن نبوت کے متعلق ہم دیکھتے ہیں کہ اس میں عورتیں حصہ دار ہی نہیں۔اس دروازہ سے مرد ہی داخل ہواتے ہیں۔جس سے معلوم ہوا کہ نبیوں کی خوابوں کا منبع اور ہے اور حدیث النفس کا منبع اور۔(۲) اسی طرح علم کیفیات القلب کے ماہر کہتے ہیں کہ جن خوابوں کی ہم نے تحقیقات کی ہے وہ جوش جوانی میں کثرت سے آتی ہیں اور بڑھاپے میں بہت کم۔حتی کہ ۶۵ سال سے زیادہ عمر میں بالکل بند ہو جاتی ہیں یا بہت ہی کم آتی ہیں۔اور یہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا کی طرف سے بھی خواہیں آتی ہیں۔کیونکہ انبیاء کو جوانی کی عمر گزار کر بڑھاپے میں ہی الہام اور خوابوں کی کثرت ہوتی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ ان خوابوں کا سلسلہ ہی اور ہے۔اور وہ جن کی تحقیقات انہوں نے کی ہے بے شک وہ سلسلہ ایسا ہے جو عورتوں میں زیادہ پایا جاتا ہے اور مردوں میں کم۔پھر وہ جوانی کے ایام میں زیادہ اور کثرت سے جاری ہوتا ہے اور بڑھاپے میں اکثر جگہ میں خواب کا لفظ طوالت سے بچنے کے لئے استعمال کرتا ہوں۔ورنہ اس سے مراد رو یا الہام اور کشوف سب اقسام رہی ہیں۔