انوارالعلوم (جلد 4) — Page 136
انوار العلوم جلد ۴ پہنچاہی دیں گے۔۱۳۹ علم حاصل کرو آپ لوگ شاید یہ کہیں کہ ہم سالانہ جلسہ پر جو آیا کرتے ہیں ہمارا یہی آنا کافی ہے مگر یہ ٹھیک نہیں ہے اس موقع پر اجمالی باتیں بتائیں جاتی ہیں اور کام کرنے کی تاکید کی جاتی ہے نہ کہ کچھ پڑھانے اور سکھانے کی فرصت ہوتی ہے اس کیلئے جلسہ کے ایام کے علاوہ ہی موقع ہوتا ہے اس لئے جلسہ کے علاوہ اور وقتوں میں بھی آنا چاہئے۔جو دوست اور دنوں میں آتے ہیں انہوں نے چونکہ دیکھ لیا ہے کہ تازہ اور ڈبوں کے دودھ میں کیا فرق ہے اس لئے وہ کوئی چھٹی اور کوئی موقع ایسا نہیں جانے دیتے کہ یہاں نہیں آجاتے۔خرچ کی تنگی برداشت کرتے ہیں ، گھر کے آرام و آسائش کو ترک کرتے ہیں، بیوی بچوں سے جدا رہتے ہیں مگر آتے ضرور ہیں اور انہیں فائدہ بھی بہت پہنچتا ہے۔ان کا بار بار آنا ہی بتاتا ہے کہ انہیں فائدہ حاصل ہوتا ہے ورنہ وہ کیوں آئیں تو یہاں آنا نہایت ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود نے اس کے متعلق بڑا زور دیا ہے اور فرمایا ہے کہ جو بار بار یہاں نہیں آتے مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے۔پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاٹا جائے گا۔تم ڈرو کہ تم میں سے کوئی نہ کاٹا جائے گا۔پھر یہ تازہ دودھ کب تک رہے گا آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے۔کیا مکہ اور مدینہ کی سوکھ گیا کہ نہیں؟ اسی طرح ایک وہ وقت بھی آئے گا خدا ہماری اولادوں اور ان کی اولادوں کی اولادوں سے بھی پرے اسے پھینک دے جبکہ یہ دودھ سوکھ جائے گا لیکن یہ وقت آئے گا ضرور اس لئے تمہیں چاہئے کہ اس دودھ کو پیو اور اس سے فائدہ اٹھاؤ۔سال میں صرف ایک دفعہ تمہارا آنا کوئی زیادہ مفید نہیں ہو سکتا مگر افسوس ہے کہ اکثر لوگ اس طرف خیال نہیں کرتے۔پھر پوری اور فائدہ بخش تعلیم استاد اسی وقت دے سکتا ہے جب کہ طالب علم سے اچھی طرح واقفیت بھی رکھتا ہو اور اس کی عادات کو خوب جانتا ہو مگر صرف جلسہ کے موقع پر آنے والے دوستوں سے ہمیں ایسی واقفیت نہیں ہو سکتی۔بیسیوں لوگ ہوں گے جو مجھے چاروں جلسوں پر ملے ہوں گے اور انہوں نے اپنے نام بھی بتلائے ہوں گے لیکن پھر بھی میں انہیں نہیں پہچان سکتا کیونکہ اس قدر ہجوم میں کوئی پتہ نہیں رہتا اور تعلیم بغیر پوری واقفیت کے دی نہیں جاسکتی اور واقفیت اسی طرح ہو سکتی ہے کہ دوست باربار آئیں اور جلسہ کے ایام کے علاوہ اوقات میں آئیں۔ایسی صورت میں معلوم ہو سکے گا کہ فلاں کو کس طریق سے پڑھانے کی ضرورت ہے اور فلاں کو کس علم کی حاجت۔پھر اسی کے مطابق چھائیوں سے دودھ ہو