انوارالعلوم (جلد 4) — Page xvi
العلوم جلد" اس کا نام نبوت رکھا جائے یا محد ثیت۔۔۔۔لیکن بعد صراحت کے۔۔۔۔۔آپ نے اس مقام کا نام نبوت رکھ دیا۔۔۔۔اور اس بات میں آپ منفرد نہیں"۔اس کے علاوہ بعض اور ایسے اعتراضات کا بھی مختصر جواب دیا جن پر حضور کی دوسری تصانیف میں مفصل بحث موجود ہے۔اصلاح اعمال کی تلقین ۱۲ فروری ۱۹۱۹ ء کو حضرت مصلح موعود نے حضرت میاں چراندین صاحب لاہور کے مکان پایه پر یہ تقریر فرمائی جس میں آپ نے تزکیۂ نفس اور روحانی اصلاح کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا۔جس طرح مادی دنیا میں حرکات کی لہریں چلتی ہیں اسی طرح روحانی دنیا میں بھی چلتی ہیں جو کبھی تو اتنی نمایاں ہوتی ہیں کہ ہر ایک انسان انہیں دیکھ لیتا ہے اور کبھی ایسی کہ اس آلہ بے تار کی طرح ان کا علم ان ہی کو ہو سکتا ہے جن کے پاس ان کے معلوم کرنے کا آلہ ہوتا ہے" بڑی بڑی لہریں انبیاء کی آمد سے پیدا ہوتی ہیں حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت موسی ، حضرت عیسی اور پھر حضرت محمد ﷺ کے زمانہ میں جو لہریں پیدا ہو ئیں انہوں نے دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا خاص طور پر دنیا کو شرک سے نجات دلانے کے لئے نبی اکرم ا کے وقت میں اٹھنے والی لہروں نے متاثر کیا۔دلوں میں پیدا ہونے والی کوئی رو ضائع نہیں جاتی اس کا اثر دور دور تک جاتا ہے اور دوسروں کے دلوں پر اثر کرتی چلی جاتی ہے۔مخفی لہروں کے اثر کرنے کا ثبوت قرآن کریم میں سورۃ الناس میں ہے۔اس حکمت کے تحت كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ (التوبة : ) میں صادقوں کی صحبت میں رہنے کا ارشاد ہے۔اس لئے کہ قرب کا اثر ہوتا ہے خواہ زمانی ہو یا جسمانی اور اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اسلام میں مجددین کو بھیجا تاکہ قرآن کریم کا اثر لوگوں کے دلوں پر براہ راست ہو۔مؤمنین کو تو بہت احتیاط کرنی چاہئے۔مؤمن اپنا ہر کام ہر فعل اور ہر ایک بات کرتے وقت نہایت احتیاط کرے اور ہمیشہ اچھی سوچ اور اچھی نیت رکھے جیسے حضرت عمرؓ نے