انوارالعلوم (جلد 4) — Page 122
انوار العلوم جلد ۴ اوپر اور ١٢٢ علم حاصل کرو چڑھ جائیں اور اس پر چڑھنے کیلئے جب ہم نے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں، دوستوں تعلق رکھنے والوں کو ترک کر دیا ہے، دنیاوی آرام و آسائش کی کوئی پرواہ نہیں کی، اپنے مال اور جائیداد کو ترک کرنے میں کوئی پس و پیش نہیں کیا، تو اب اگر ہمیں خدا تعالیٰ بھی نہ ملا تو کیسے افسوس اور رنج کی بات ہوگی۔اس سے سمجھ لو کہ علم دین کا حاصل کرنا آپ لوگوں کس قدر ضروری ہے۔اس کے متعلق آپ کو بارہا کہا گیا اور اب میں پھر کہتا ہوں اور ا تک خدا تعالیٰ مجھے توفیق دے گا کہتا رہوں گا۔یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ بہت لوگ یسے ہیں جو احمدی کہلاتے ہیں مگر توجہ نہیں کرتے کہ احمدیت ہے کیا خدا تعالیٰ نے ان کا کیا کام مقرر کیا ہے اور رسول کریم نے ان کے ذمہ کون سے فرائض رکھے ہیں اور اسلام ان سے کیا چاہتا ہے۔خدا کا دیدار کس طرح ہو سکتا ہے۔آپ لوگ جتلائیں کہ کیا آپ میں سے کوئی چاہتا ہے کہ اسے اپنے عزیز اور پیارے نظر نہ آئیں۔یا وہ پسند کرتا ہے کہ اس کی آنکھوں کی بینائی جاتی رہے اور وہ کچھ نہ دیکھ سکے۔کوئی نہیں پسند کرتا۔اب بتلاؤ جب کوئی اپنے بیوی بچوں، بہنوں، بھائیوں، دوستوں، رشتہ داروں کے دیکھنے کیلئے آنکھیں چاہتا ہے تو کیا خدا ہی ایک ایسی ہستی ہے کہ اس کے دیدار کیلئے وہ آنکھیں نہیں چاہتا۔دنیا میں جب چھوٹے سے چھوٹے تعلق کیلئے انسان جانیں قربان کر دیتے ہیں اور ذرا آنکھوں میں درد یا تکلیف ہو تو شور ڈال دیتے ہیں کہ ہائے ہمیں کچھ نظر نہیں آتا اور اگر کسی کی آنکھیں ضائع ہو جائیں تو وہ نہایت حسرت اور افسوس کے ساتھ کہتا ہے کہ ہائے میری تمام زندگی برباد ہو گئی تو پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ایک مومن برداشت کرلے کہ اس کی ساری عمر یونہی گذر جائے اور وہ اندھا ہی اس دنیا سے چلا جائے اور خدا کا دیدار اسے نصیب نہ ہو۔خدا تعالیٰ کا دیدار تو علم دین سے ہی حاصل ہو سکتا ہے اور اس کے ذریعہ وہ معرفت کی آنکھیں نصیب ہو سکتی ہیں جو خدا تعالی کو دیکھ سکتی ہیں اس لئے جو اسے حاصل کرے گا اسے اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی خدا کا دیدار نصیب ہو جائے گا اور جو نہیں کرے گا اسے نہ اس دنیا میں یہ نعمت حاصل ہوگی اور نہ آخرت میں ہوگی۔جیسا کہ خدا تعالی فرماتا ہے وَمَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى (بنی اسراءیل :۷۳)- کہ جو یہاں اندھا ہے وہ وہاں بھی اندھا ہی ہوگا یعنی جسے اس دنیا میں خدا کا دیدار نہیں ہوا اسے آخرت میں بھی