انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 97

انوار العلوم جلدم علم حاصل کرو جائیں۔ہم تو رسول کریم کے روحانی علوم کے وارث ہیں یہ سوچ کر ان میں سے ایک چلتے پرزے نے باطنی جہاد کے ذریعہ ہمیں ہلاک کرنے کا اعلان کر دیا۔ان تمام لوگوں کی طرف سے ہمارے خلاف ایک رو آئی ہے اور اس کے چلانے والوں نے سمجھا ہے کہ اس طرح یہ سلسلہ مٹ جائے گا لیکن وہ نہیں جانتے کہ اس درخت کے لگانے والا وہ خدا ہے جس کے قبضہ میں ہر ایک چیز ہے۔ہر قسم کی آگ پر اس کا قبضہ ہے، ہر ایک قسم کے پانی پر اس کا تصرف ہے اور ہر ایک قسم کی ہوا اس کے اختیار میں ہے۔اس لئے نہ تو کوئی آگ اسے جلا سکتی ہے نہ کوئی پانی اسے بہا سکتا ہے اور نہ کوئی ہوا اُسے گرا سکتی ہے بلکہ یہ اور ان کے علاوہ باقی تمام عناصر اس کے لگائے ہوئے درخت کے خادم ہیں۔پس مخالفین کی طرف سے جس قدر بھی مخالفت ہوگی وہ اس درخت کیلئے کھاد کا ہی کام دے گی اور ان وہ دن بدن زیادہ سے زیادہ پھل اور پھول لاتا رہے گا۔یہ صاف بات ہے کہ کسی کی طاقت اور قدرت کا اسی وقت پتہ لگتا ہے جبکہ اس کے خلاف زور لگانے والے کھڑے ہوں۔پس اس وقت خدا تعالیٰ ہمارے دشمنوں کو اپنی طاقت اور قدرت کا ثبوت دینا چاہتا ہے اور بتانا چاہتا ہے کہ اس قسم کی ناکامی ہمارے لئے نہیں بلکہ ہمارے دشمنوں کیلئے مقدر ہو چکی ہے۔چنانچہ اسی وقع پر دیکھ لو ہماری جماعت کیسی غریب جماعت ہے، دنیاوی لحاظ سے سوائے چند لوگوں کے باقی سب کے سب معمولی حیثیت کے لوگ ہیں لیکن باوجود اس کے ان قحط سالی کے دنوں میں کہ غلہ سات آٹھ سیر سکتا ہے، کپڑا اتنا مہنگا ہو گیا ہے کہ پہلے کی نسبت کئی گناہ زیادہ قیمت پر ملتا ہے اور دیگر اشیاء نہایت گراں ہو گئی ہیں مگر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ خدا کی راہ میں اپنا مال اپنا وقت صرف کرنے میں اس جماعت کا قدم پیچھے ہٹ رہا ہے۔ہرگز نہیں۔اس سال سالوں سے بھی زیادہ لوگوں نے جوش دکھایا ہے اور بہت زیادہ تعداد میں یہاں آئے ہیں خدائی تصرف ہے کسی انسان کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے۔اسی سے معلوم ہو سکتا ہے کہ دشمن نے جتنا زور لگایا ہے اتنی ہی اسے ناکامی ہوئی ہے اور ہر طرح کی ذلت کا اسے منہ دیکھنا پڑا ہے۔مگر پھر بھی ہمارے لئے ضروری ہے کہ دشمن کے مقابلہ میں اور زیادہ زور اور کوشش صرف کریں کیونکہ اللہ تعالٰی غنی ہے۔دیکھو رسول کریم اے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ تمہاری فتح ہوگی لیکن بدر کے دن آپ کس قدر گڑ گڑا گڑ گڑا کر دعائیں مانگتے تھے اور صحابہ کو جوش دلاتے تھے کہ اس طرح لڑائی کرو۔پس ہمیں بھی چاہئے کہ دشمن کے مقابلہ میں پورا