انوارالعلوم (جلد 4) — Page 94
انوار العلوم جلدم ۹۴ علم حاصل کرد مجھے ایک خاص حصہ یعنی پنجاب تک ہی محدود تھی بقیہ علاقے اس سے خالی تھے۔اس کے بعد ہمارا سلسلہ دوسرے علاقوں میں بھی پھیلتا گیا مگر کوئی خاص مخالفت نہیں ہوئی لیکن اس سال ہمارے خلاف مخالفت کی ایک ایسی آندھی چلی اور ایسا طوفان آیا ہے کہ ہندوستان کا تمام جو غبار آلود ہو گیا ہے اور تمام مطلع پر ہمارے خلاف جھگڑے اور عناد کی آگ بھڑک اُٹھی ہے اور جس طرح موسم برسات سے پہلے آندھی آتی اور گرد اُڑتی ہے اسی طرح اب ہمارے خلاف اڑ رہی ہے۔اس سے ہماری جماعت کے بعض لوگ حیران ہیں کہ ایسا کیوں ہوا ہے۔ان کا خیال ہے کہ دشمن کا ایک بار مقابلہ میں ہار کر بیٹھ جانا اور پھر اٹھنا کوئی اچھی علامت نہیں ہے مگر میں اللہ تعالی کے فضل اور اس کے دیئے ہوئے علم کے ماتحت یقین رکھتا ہوں کہ ان کا یہ خیال غلط ہے۔اب دوسری بار دشمنوں کا ہمارے خلاف اٹھنا ہمارے لئے مضر نہیں بلکہ کچھ اور ہی معنی رکھتا ہے۔ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ بیمار پر دو وقت نہایت کٹھن آتے ہیں ایک وہ جب تپ چڑھنا شروع ہوتا ہے اور دوسرا وہ جب اُترنے لگتا ہے۔دوسرے وقت کا نام طبیبوں نے بحران رکھا ہوا ہے۔یعنی اس وقت طبیعت اور بیماری کی آخری جنگ ہوتی ہے۔اگر بیماری غالب آجائے تو ہلاکت ہوتی ہے اور اگر طبیعت غالب آجائے تو صحت ہو جاتی ہے۔پس اب ہمارے مخالفین کا بحران کی حالت میں ہونا ہمارے لئے سراسر مفید اور فائدہ مند ہی ہے۔بشرطیکہ ہم اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔ہمارے خلاف اس زور شور سے دشمن کا مخالفت کیلئے کھڑا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اس نے سمجھ لیا ہے کہ اب یہ آخری موقع ہے۔یا میں غالب ہو گیا یا یہ اس لئے وہ آخری زور لگانے کیلئے کھڑا ہوا ہے۔پس ہمارے مخالفین کا یہ زور شور اس بات کی علامت نہیں ہے کہ خدانخواستہ ہمارا قدم (بقیہ حاشیہ) والی ہے۔چنانچہ جب خواجہ حسن نظامی صاحب میدان مقابلہ سے بھاگ گئے اور ان کا فتنہ مٹ گیا اور ان کی طرف سے کسی جھوٹی خوشی منانے کا خطرہ جاتا رہا تو پھر یک لخت میں بیمار ہوا اور ایسا سخت کہ عمر بھر میں ایسا سخت بیمار نہ ہوا تھا بلکہ ایک دن تو بالکل جان کندن کی حالت ہوگئی اور بہت تھوڑے سے حصہ جسم میں جان باقی رہ گئی حتی کہ مجھے یقین ہو گیا کہ اب وقت آخر ہے اور ایک دو منٹ تک بھی میں زندہ نہیں رہ سکتا۔اور جب ڈاکٹر صاحب خبر پانے پر آئے اور مجھ سے پوچھا کہ کیا حال ہے تو اس وقت میں نے ان کو یہی کہا کہ جو ہونا تھا ہوچکا کہ پھر حالت میں تغیر پیدا ہوا اور طبیعت بحال ہونے لگی لیکن بیماری بہت دنوں تک لمبی چلی گئی اور صحت کو ایک ایسا دھکا لگا کہ جس طرح پہاڑ کو زلزلہ سے لگتا ہے۔اور آخر مجبوراً بیماری کی ہی حالت میں ڈاکٹروں کے فتویٰ کے ماتحت اول ساحل سمندر اور بعد میں پہاڑ پر جانا پڑا جہاں کہ میں آجکل مقیم ہوں اور جہاں اللہ تعالی کے فضل سے اب میری صحت کو بہت فائدہ ہے۔مرزا محمود احمد ۲ - جولائی ۱۹۱۸ء