انوارالعلوم (جلد 4) — Page 85
را الحلوم جلد ۴ ۸۵ جماعت کو سیاست میں دخل نہ دینے کی نصیحت سے زیادہ نہیں) کے مذہبی اور سیاسی خیالات سے سخت متنفر ہیں یہ چند آدمی ہماری پانچ چھ لاکھ کی جماعت کے خیالات کے ہرگز ترجمان نہیں ہو سکتے۔آپ لوگوں کو اس ایڈریس کے پڑھنے سے جس کی ایک یا ایک سے زیادہ کاپیاں مطابق ضرورت آپ کو بھیجی گئی ہیں معلوم ہو جاوے گا کہ اس وقت ہندوستانیوں کے ہاتھ میں اختیارات کا دیا جانا مسلمانوں کے لئے عموماً اور احمدیوں کے لئے خصوصاً کیسا مضر ہے اور اس امر کو آپ لوگ اپنے تجربہ کی بناء پر بھی خوب اچھی طرح سے سمجھتے ہیں کیونکہ ہماری جماعت کا کوئی حصہ نہیں جس نے ابنائے وطن کے ہاتھوں تکلیف نہیں اٹھائی اور جب کہ یہ حال گورنمنٹ برطانیہ کے زبر دست ہاتھ کی موجودگی میں ہے تو اس کے کمزور کر دینے یا ہٹا لینے پر کیا حال ہو گا۔حضرت صاحب کے مقدمات میں ہندوستانی اور انگریز جوں کے سلوک آپ لوگوں کو بھولے نہ ہوں گے۔ہم سے زیادہ کوئی شخص اس بات کا خواہش مند نہیں ہو سکتا کہ تمام ملک میں صلح اور امن ہو اور ہم اور دیگر ابنائے وطن بھائی بھائی کی طرح رہیں۔لیکن بغیر تعصب کے مٹنے کے ایسا کس طرح ہو سکتا ہے۔ہم اس کے مخالف نہیں کہ گورنمنٹ ہندوستانی کو خود اختیاری دے ، بلکہ صرف اس بات کے مخالف ہیں کہ ایسے وقت میں دے جب اس کا نتیجہ ملک و قوم کے لئے ہلاکت کا موجب ہو۔حضرت مسیح موعود نے تو خود پیغام صلح لکھ کر ہندوؤں کو صلح کے لئے بلایا تھا۔اگر اس پیغام کو اہل ہنود مان لیتے تو عملاً صلح ہو جاتی اور اس صورت میں گورنمنٹ سے حکومت مانگنے کی بھی ضرورت نہ تھی۔گورنمنٹ خود ہندوستانیوں کو زیادہ اختیار دے دیتی۔کیونکہ گورنمنٹ برطانیہ ایک نہایت منصف اور موقع شناس گورنمنٹ ہے۔اور اگر اب اہل ملک اس تعصب کو ترک کر دیں جو عملاً ہر جگہ رونما ہے تو ابھی سے ہمیں ان سے کوئی اختلاف نہیں رہتا۔اس اختلاف اور فساد کے وقت میں اگر گورنمنٹ اپنا ہاتھ اس حد تک علیحدہ کر لے کہ ہندوستانیوں کے ہاتھ میں اکثر اختیارات آجادیں تو وہ خدا تعالیٰ کے پاس بھی جواب دہ ہے۔لیکن ضرورت ہے کہ گورنمنٹ کو فیصلہ کرنے میں مدد دینے کے لئے ہم اپنے خیالات سے اس کو آگاہ کر دیں۔حضور وزیر ہند صاحب بہادر غالبا ایک ماہ کے قریب یہاں اور ہیں۔اس لئے جماعت کی متفقہ آراء اس عرصہ میں طبع ہو کر ہمارے ایڈریس کی تائید میں ان تک پہنچ جانی چاہئیں اور یہ بھی ان کو معلوم ہو جانا چاہئے کہ غیر مبائکین کی رائے ہماری جماعت کی رائے ہرگز نہیں ہو سکتی۔اس لئے جس قدر جلد ہو۔