انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 72

انوار العلوم -جلد -۔۷۲ فاروق کے فرائض انصاف پسند ہے حضرت مسیح موعود اپنی تمام عمر اس گورنمنٹ کی فرمانبرداری پر زور دیتے رہے ہیں پس اس نازک وقت میں کہ ہندوستان مختلف تحریکوں کی آماجگاہ بن رہا ہے فاروق کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ ہر ایک مشکل میں گورنمنٹ برطانیہ کا مددگار ہو اور نیک ارادوں کو لوگوں کے ذہن نشین کرنے کا آلہ۔مگر ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال رہے کہ ہماری خدمت بے ریا ہے اور بغیر کسی خواہش کے ہے پس خوشامد کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں انسان غلطی کر سکتا ہے اور گورنمنٹ انگریزی بھی انسانوں کی بنی ہوئی ایک گورنمنٹ ہے وہ بھی غلطی کر سکتی ہے اور کرتی ہے پس ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہئے کہ اس کی ہر ایک کارروائی کو جو اپنی ضمیر کے کیسی ہی خلاف کیوں نہ ہو خوبصورت کر کے دکھایا جائے بلکہ اگر ایسا کوئی موقعہ ہو تو گورنمنٹ سے امید رکھنی چاہئے کہ وہ فورا اسے درست کر دے گی اور لوگوں کو سمجھانا چاہئے کہ ایجی ٹیشن کے ذریعہ سے وہ گورنمنٹ کا مقابلہ نہ کریں بلکہ جس طرح ایک باپ سے بیٹا امیدوار ہوتا ہے کہ اس کی تکلیف کو وہ دور کرے گا اسی طرح گورنمنٹ سے امید رکھیں کہ وہ اس کی تکلیف کو دور کرے۔غرض نیک باتوں کی تعریف کرنا اور اگر گورنمنٹ کسی بات میں غلطی کرے تو لوگوں کو تسلی اور تسکین دینا اور گورنمنٹ کے نیک ارادوں اور صاف نیت کو لوگوں پر ظاہر کرنا یہ فاروق کی پالیسی ہونی چاہئے۔فاروق کے مضامین کی عبارت سنجیدہ ہو کہ انسی اور ٹھٹھا مومن کے فاروق کے مضامین شایان شان نہیں۔مضامین کے الفاظ کو زور دار ہوں لیکن گالیوں سے بالکل خالی ہوں کہ گالی کا فائدہ کچھ نہیں ہو تا۔دشمن کے خلاف اس رنگ میں لکھنا چاہئے کہ غیر تو غیر خود دشمن کا دل بھی محسوس کر لے کہ متانت اور اخلاص اور خیر خواہی سے مضمون لکھا گیا ہے کیونکہ اس کے بغیر ہدایت نہیں ہوتی اور ہدایت کے سوا اور کیا چیز ہے جس کے لئے مضمون لکھا جاتا ہے؟ وہ انسان کسی عزت کے قابل نہیں جو صرف لوگوں کو خوش کرنے کے لئے چٹخارہ دار مضامین لکھتا ہے یا اپنے دل کا غصہ ظاہر کرنے کے لئے سختی سے کام لیتا ہے اخلاص کی اور اصلاح یہ نظر ہو اور اس کے بغیر نہ کوئی مضمون لکھا جائے اور نہ چھاپا جائے۔اس وقت اخبارات کی بڑی قدر ہے اور اخبارات سے بہترین خدمت ہو سکتی ہے لوگ اخبارات کے پڑھنے کے عادی ہیں