انوارالعلوم (جلد 3) — Page 71
وم جلد ۳۰ فاروق کے فرائض اس کے لئے کوئی ٹکٹ بھی نہیں کوئی قیمت نہیں ایک سنگدل انسان جس کا پیشہ ظلم اور جو ر ہے جس کے دل میں رحم کبھی پیدا نہیں ہوتا اپنا نام محمد لطیف بتاتا ہے اور ایک شخص جو بخل اور کنجوسی کا مجسمہ ہے اور ایک پیسہ فی سبیل اللہ خرچ نہیں کر سکتا اپنا نام محمد احسان ظاہر کرتا ہے۔خیر یہ تو ایک درمیانی بات تھی۔میں یہ بیان کرنا چاہتا تھا کہ نام در حقیقت کام کے اظہار کے لئے ہوتے ہیں اور صرف شناخت کے لئے علامت ہی نہیں ہوتے بلکہ اصل غرض ان سے کام کا بتانا ہی ہوتا ہے۔اور یہ بات اس زبان سے بخوبی ظاہر ہے جو الہامی زبان ہے اور جس کا نام فصاحت عربی (یعنی عربی) ہی بتا رہا ہے کہ وہ ایک فصاحت سے پر اور غلطیوں سے پاک زبان ہے اور دوسری عجمی زبانوں کی طرح خیالات انسانی کے ادا کرنے میں ناکافی ثابت نہیں ہوتی اس زبان میں جس قدر اشیاء کے نام ہیں وہ ان کی حقیقت پر بھی روشنی ڈالتے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ نام کام کے اظہار کے لئے ہوتے ہیں اور ہونے چاہئیں پس فاروق کو بھی اسم باسمتی ہونا چاہئے اور اس وسیع دنیا کے کروڑوں ایکٹروں کی طرح ایک ایکٹر نہیں بننا چاہئے کہ اس کا نام تو فاروق ہو لیکن وہ فاروقی صفات سے عاری ہو۔فاروق عربی زبان کا ایک لفظ ہے جس کے دو معنے ہیں ڈرنے والا اور حق و فاروق کا کام باطل میں فرق کرنے والا پس فاروق کے مضامین یہ دونوں رنگ اپنے اندر رکھیں تب فاروق کے نام کا وہ مستحق ہو سکتا ہے اس کے مضامین خشیت الہی سے لکھے جائیں اور خشیت الہی کے پیدا کرنے والے ہوں کیونکہ خدائے تعالیٰ کا خوف اپنے دل میں رکھنے والے لوگ دوسروں کے دل میں خشیت پیدا کرنے کا باعث بھی ہو جاتے ہیں اسی طرح اس میں حق و باطل میں فرق کر کے دکھایا جائے اور کبھی اس بات کے منوانے کی کوشش نہ کی جائے جو خود منوانے والے کے نزدیک غلط ہو اور اگر کبھی غلطی بھی ہو جائے تو اس کا اعتراف کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہنا چاہئے۔اس بات کو خوب یاد رکھیں کہ گورنمنٹ برطانیہ کے ہم پر بہت گورنمنٹ کی وفاداری احسان ہیں اگر ہماری سمجھ میں وہ احسان نہ بھی آئیں تب بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اس حکومت میں پیدا ہوتا ہی اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ یہ حکومت خدائے تعالی کی نظروں میں دنیا کی تمام موجودہ حکومتوں سے زیادہ رعایا پرور اور