انوارالعلوم (جلد 3) — Page 37
العلوم جلد - ۳ ۳۷ ایک صاحب کے پانچ سوالوں کا جواب دوڑتے جسے خدا تعالیٰ نے اسلام کی حفاظت کے لئے پیدا کیا ہے اور اس جماعت سے علیحدہ ہو جاتے جس نے حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔جب آنحضرت الله مسیح موعود کو اپنا سلام پہنچا دینے کا حکم ہر ایک مسلمان کو دیتے ہیں تو پھر کیا مسلمان کہلاتے ہوئے کوئی شخص مسیح موعود سے جدا ہو سکتا ہے۔ہر ایک شخص کو یہ حکم دیتا کہ میری طرف سے مسیح موعود کو سلام کہنا اس کا مطلب سوائے اس کے اور کیا ہے کہ اس کی جماعت میں شامل ہونا۔کیونکہ سلام پہنچانا چاہتا ہے کہ اس کے پاس بھی انسان جائے اور الہی سلسلے انسانوں کی وفات کے ساتھ ختم نہیں ہو جاتے۔مسیح موعود کا ماننا جیسے اس کی زندگی میں ضروری تھا اسی طرح اب بھی ہے۔اسلام کو سب سے بڑا نقصان پراگندگی سے پہنچا اور اللہ تعالی چاہتا ہے کہ پھر نئے سرے سے مسلمانوں کو ایک جماعت بنائے اور اس کے لئے اس نے مسیح موعود کو بھیجا ہے۔اب جس شخص کے دل میں اسلام کی محبت ہے اور خدا تعالیٰ کا تقویٰ رکھتا ہے اسے چاہئے کہ مسیح موعود کے دعوئی کو پرکھنے کے بعد اس کی صداقت معلوم کر کے اس کے احاطہ میں آجائے تا ایسا نہ ہو کہ خدا تعالیٰ کے حضور میں وہ ان لوگوں میں شامل کیا جارے جو اسلام کو نقصان پہنچانے والے اور جماعت مسلمین کو پراگندہ کرنے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے اور حق کی طرف ہدایت کرے۔آمین۔۔مرزا محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی قادیان دار الامان ۹ - اپریل ۱۹۱۵ء