انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 604 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 604

۶۰۴ زندهند اکثر لوگ جانتے ہیں کہ ایک زمانہ حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا پہلا نشان آپ پر ایسا گزرا کہ آپ کے گاؤں کے لوگ بھی آپ کو نہ جانتے تھے اور آپ کے نام تک سے واقف نہ تھے کیونکہ آپ ایک حجرہ میں اکیلے رہتے تھے۔پھر آپ چار سال سیالکوٹ میں رہے ہیں وہاں بھی چند ہی لوگ آپ کو جاننے والے تھے کیونکہ آپ وہاں اکیلے ہی رہتے تھے اور بہت کم لوگوں سے تعلق رکھتے تھے۔کبھی کسی سنجیدہ اور متین آریہ یا عیسائی سے مذہبی گفتگو کرنے کے لئے چلے جاتے تھے۔اور کوئی پندرہ یا بیس کے قریب آدمی تھے جو سیالکوٹ میں آپ کو جانتے تھے۔آج کل لاء کالج لاہور کے جو پرنسپل ہیں ان کے والد لالہ بھیم سین صاحب آپ کے ساتھ اکثر ملتے جلتے رہتے تھے۔ان کی شہادت ہے کہ آپ بالکل علیحدہ اور تنہائی میں رہتے تھے اور محویت کا یہ عالم تھا کہ جس سڑک پر متواتر چھ چھ ماہ گزرتے اس کو بھول جاتے کیونکہ آپ نیچی نظر کر کے چلا کرتے تھے۔ایسی گمنامی کی حالت میں آپ نے اعلان کیا تھا اور خدا سے الہام پا کر کیا تھا کہ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ ( تذکرہ صفحہ ۷۵۲) وہ وقت آگیا ہے جب کہ دنیا میں تیری شہرت کی جائے اور تیرے نام کو روشن کیا جائے۔اس وقت دور دور سے تمہارے پاس چیزیں آئیں گی اور اس سے آئیں گی کہ رستے گھس جائیں گے ان میں گڑھے پڑ جائیں گے۔پھر کہا گیا تھا۔يأْتِيَكَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ ( تذکره صح (۲۰) دور دور سے تیرے پاس لوگ آئیں گے اور ان کے آنے کی کثرت سے راستوں میں گڑے پڑ جائیں گے۔یہ کتنا بڑا دعویٰ ہے۔کوئی انسان نہیں کہہ سکتا کہ کل تک میں زندہ بھی رہوں گا یا نہیں چہ جائیکہ وہ کہے کہ مجھے ایک بہت بڑی جماعت دی جائے گی اور اس قدر کامیابی ہو گی کہ میرا نام ساری دنیا میں پھیل جائے گا اور اگر ایسا نہ ہوا تو میں اسلام کو جھوٹا مذہب مان لوں گا۔ہو سکتا ہے کہ ایک شریر انسان یونسی بڑ مار دے کہ میں دس من بوجھ اٹھالوں گا لیکن یہ کبھی نہیں کہے گا کہ اگر میں نہ اٹھا سکوں تو میرا گھر بار ضبط کر لیا جائے۔تو ایک ایسے دعوے کے متعلق کوئی انسان شرط نہیں لگا سکتا جس کے صحیح اور درست ہونے میں اسے پورا پورا یقین نہ ہو۔مگر حضرت مرزا صاحب نے صرف یہی اعلان نہیں کیا کہ ایسا ہو گا۔بلکہ یہ بھی کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو مجھے جھوٹا اور کذاب سمجھا جائے اور کچھ وقعت نہ دی جاوے۔اب یہ ایک ایسا دعویٰ ہے کہ جس کے پورا نہ ہونے پر ایک انسان اپنی عزت اور وقار