انوارالعلوم (جلد 3) — Page 603
وم جلد ۳۰ ۶۰۳ زندان بعد میں آکر ہوئی ہے۔اس لئے ہم نے اسلام اس لئے قبول نہیں کیا کہ ہمارا آبائی مذہب ہے۔بلکہ ہماری غرض تو یہ ہے کہ جس میں خدا مل جائے اسے قبول کیا جائے۔ہم تو اس کے لئے تیار ہیں کہ اگر ثابت کر دیا جائے کہ کوئی اور ایسا مذ ہب ہے جس میں خدا المتا ہے تو اسی کو اختیار کر لیں۔لیکن اسلام کے سوا اور کوئی ایسا دین نہیں ہے جس میں یہ بات حاصل ہو سکے۔یہ صرف اسلام ہی کا دعوئی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے ملا دیتا ہے۔اور اس کا زندہ ثبوت بھی پیش کرتا ہے اس لئے یہی زندہ مذہب ہے۔گذشته واقعات کو جانے دو کہ ہر ایک مذہب والا اپنے مذہب کی صداقت ظاہر کرنے کے لئے اس قسم کے واقعات سنانے کے لئے تیار ہے۔اگر ہم کہیں کہ رسول کریم کے دشمن تباہ و برباد ہو گئے اور آپ کامیاب رہا مراد بن گئے تو دوسرے کہہ دیں گے کہ یہ کونسی بڑی بات ہے۔ہمارے بزرگوں نے تھوڑی سی دیر میں ایک ہاتھ سے اپنے سارے دشمنوں کو تباہ کر دیا تھا۔یا اگر ہم کہیں کہ ایسے موقعہ پر جہاں ظاہری سامان بالکل مخالف تھے خدا نے آنحضرت ا کی وجہ سے بہت بڑی کامیابی عطا کی تو اس سے بڑھ کر سنا دیں گے۔اس لئے اس قسم کی باتوں سے صاف طور پر فیصلہ نہیں ہو سکتا کہ کون ساند ہب زندہ ہے۔اس لئے ہم یہ بتا ئیں گے کہ آج بھی اسلام میں وہ طاقت اور ہمت ہے جو پہلے تھی اور جب یہ ثابت ہو گیا تو یہ بھی ثابت ہو جائے گا کہ یہی زندہ مذہب ہے۔پس میں اس وقت اسلام کے زندہ ہونے کا اسلام کے زندہ مذہب ہونے کا ثبوت ثبوت پیش کروں گا۔اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے اسلام کی صداقت اور زندگی ظاہر کرنے کے لئے ایک انسان کو بھیجا جس کے ہم مرید اور ماننے والے ہیں۔اور عقیدہ رکھتے ہیں کہ انہوں نے آنحضرت ا کے بتائے ہوئے احکام پر عمل کر کے وہ درجہ حاصل کر لیا جو خدا تعالیٰ اپنے پیارے اور محبوب بندوں کو دیا کرتا ہے۔اور انہوں نے خدا تعالٰی سے ایسا تعلق پیدا کر لیا کہ خدا نے ان سے کلام کیا۔اور ایسے صاف اور بین طور پر کلام کیا کہ کوئی عظمند اور سمجھدار انسان اس سے انکار نہیں کر سکتا۔دیکھئے کوئی بڑے سے بڑا فلسفی اور بڑے سے بڑا قیافہ شناس یہ نہیں بتا سکتا کہ کل کیا ہو گا۔لیکن ہمارے مرشد اور مقتدا حضرت مرزا صاحب ایسے گزرے ہیں کہ جنہوں نے کئی سال پہلے بتا دیا کہ ایسا ہو گا چنانچہ ویسا ہی ہوا۔