انوارالعلوم (جلد 3) — Page 546
العلوم جلد ۳۰ ۵۶ عید الاضعی پر مسلمانوں کا فرض سود کے پھندے سے نجات پانے کی توقع ہو سکے۔اور ہندو بننے کے ظالمانہ سود سے چھٹکارہ ہو۔تیسری یہ بات تمام مسلمانوں کو ذہن نشین کرنی چاہئے کہ یہ وقت اسلام پر بہت نازک ہے اور تمام دشمنان اسلام متحد ہو کر اسلام پر حملہ کر رہے ہیں۔پس چاہئے کہ مسلمان کہلانے والے لوگوں کے آپس میں خواہ کس قدر ہی اختلاف ہوں وہ اس حملہ کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہو جائیں اور وہ لوگ جو رسول کریم ان کی تکذیب کے درپے ہیں ان کے مقابلہ میں اسلام کی حفاظت کے لئے سب ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں۔ورنہ دشمن ایک ایک کر کے سب کو نقصان پہنچائے گا۔اور پھر مسلمانوں سے کچھ کئے نہ بنے گا۔وہ پچھتائیں گے لیکن پچھتانا نفع نہ دیگا۔وہ روئیں گے اور رونا مفید نہ ہو گا۔وہ فریاد کریں گے اور ان کی فریاد سننے والا کوئی نہ ہو گا۔پس اس دن کے آنے سے پہلے انہیں اس عظیم الشان مصیبت کے دور کرنے کی فکر کرنی چاہئے جس کے برابر کوئی مصیبت ہندوستان کے مسلمانوں پر پچھلے چند سو سالوں میں نہیں آئی۔چوتھی بات وہ لوگوں کے یہ ذہن نشین کریں کہ اسلام کی موجودہ مشکلات صرف اور صرف تبلیغ سے دور ہو سکتی ہیں۔پس چاہئے کہ ہر ایک مسلمان اپنے آپ کو مبلغ سمجھے اور اپنے آس پاس کے غیر مذاہب کے لوگوں میں تبلیغ شروع کر دے۔خصوصاً اچھوت اقوام میں کہ وہ ہزاروں سال سے ہندوؤں کے ظلم برداشت کرنے کے بعد آج بیدار ہو رہی ہیں۔اور مسلمانوں کی طرف سے ایک ہمت بڑھانے والا کلمہ انہیں اسلام کے بالکل قریب کر سکتا ہے۔پس چاہیے کہ ہر ایک مسلمان اچھوت اقوام کا خیال رکھے اور جہاں بھی ایسے آدمی پائے جائیں انہیں اسلام میں داخل کرنے کی کوشش کی جائے اور اگر کسی جگہ کے مسلمان خود کام نہ کر سکیں تو کم سے کم صیغہ ترقی اسلام قادیان ضلع گورداسپور کو حالات سے اطلاع دیں تاکہ وہ جہاں تک ہو سکے مقامی لوگوں کی مدد کر کے اشاعت اسلام میں ان کا ہاتھ بٹائے۔اے دوستو! اگر بجائے قربانیوں کے راستوں پر زور دینے کے آپ لوگ عید کے دن کو مذکورہ بالا چار باتوں کے لئے وقف کر دیں۔تو یقیناً آپ اسلام کی عظیم الشان خدمت کریں گے اور دشمنان اسلام کو ایک ناقابل تلافی نقصان پہنچائیں گے۔پس عظمندوں کی طرح اپنے اور اسلام کے فائدہ کو مد نظر رکھتے ہوئے قربانی کے معاملہ میں تو ہندوؤں کے احساسات کا حتی الوسع خیال رکھیں کہ اس معاملہ میں انہیں چڑانا اسلام کے لئے مفید نہیں بلکہ مضر ہے۔لیکن