انوارالعلوم (جلد 3) — Page 30
انوار العلوم چاند ۳۰ ٣٠ ایک صاحب کے پانچ سوالوں کا جواب وجہ سے آنحضرت ﷺ نے اتقى النَّاسِ اور اَعْلَمُ النَّاسِ امام بنانے کا حکم دیا یا کم سے کم متقی انسان تو امام ہونا چاہئے جس کی نسبت ہمارا گمان ہو کہ اللہ تعالیٰ اس پر خوش ہے لیکن وہ شخص جو خدا تعالیٰ کے مامور کو رد کرتا اور اس کے حکم کو ٹالتا اور رسول اللہ الی کے ارشادات اور اشارات کو پس پشت ڈالتا ہے اس کی نسبت ہم کب خیال کر سکتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کا امام ہونے کے قابل ہے جو اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو قبول کر چکے ہیں اور اس کی امان میں آچکے ہیں ان کا امام تو وہی ہونا چاہئے جو ان میں سے ہو۔اللہ تعالیٰ تو قرآن کریم میں مومنوں کی دعا بتا تا ہے وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَاما - (الفرقان : ۷۵) ہمارے مقتدی بھی متقی ہوں۔پھر بھلا وہ شخص جو امام وقت کو رد کر کے اللہ تعالی کو ناراض کر چکا ہو امام ہونے کے لائق کب ہے۔پس اصل بات یہی ہے کہ حضرت مسیح موعود نے یہ حکم کبھی نہیں دیا کہ نماز با جماعت نہ پڑھو بلکہ ان لوگوں کے پیچھے نماز پڑھنے سے روکا ہے جو امام ہونے کے اہل نہیں اور اللہ تعالیٰ کو ناراض کر چکے ہوں تا ایسا نہ ہو کہ ان کو امام بنانے کی سزا میں یہ بھی ایمان سے محروم کر دیا جائے اور اس کی دعا بھی رد ہو اور جہاں ایسے آدمی میں جو امام ہونے کے اہل ہوں وہاں نماز با جماعت کا حکم اسی طرح موجود ہے جس طرح اسلام نے دیا ہے۔آپ آنحضرت ﷺ کے اقوال پر بھی غور فرما دیں ان سے بھی ثابت ہے کہ مسیح کے منبع ایک دوسرے کے پیچھے ہی نماز پڑہیں گے۔آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں۔كَيْفَ أَنْتُمْ إِذَا نَزَلَ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ فَا مَّكُمْ مِنْكُمْ (مسلم کتاب الایمان باب نزول عيسى بن مريم حاكما بشريعة نبينا محمد صلى الله علیه وسلم) دوسری حدیث میں ہے وَ اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ۔(بخاری کتاب بدء الخلق باب نزول عیسی ابن مریم علیه السلام) اب اس حدیث پر غور کریں کیسے صاف الفاظ میں بتایا ہے کہ احمدیوں کا امام احمد ی ہی ہونا چاہئے۔فرماتے ہیں کہ جب عیسی بن مریم نازل ہوں گے تو تم میں سے ہی امام ہو گا۔اب یہ بات تو صاف ثابت ہے کہ نماز کا امام عیسائی یا ہندو تو ہوا ہی نہیں کرتا ہے کہ ہم اس جگہ یہ خیال کر لیں کہ آنحضرت ﷺ یہ فرماتے ہیں کہ اس وقت کی یہ خصوصیت ہو گی کہ امام ہندو عیسائی یا یہودی نہ ہوا کریں گے بلکہ مسلمان ہی ہوں گے غرض اس جگہ اس حدیث کے یہ معنی کرنے کہ اے مسلمانو! اس وقت تمہارا امام تم میں سے ہو گا یعنی مسلمان ہو گا اس حدیث کو لغو اور بے معنی بنا دیتا ہے۔نعوذ باللہ من ذالک۔پس اس کے یہی معنی ہو سکتے ہیں کہ مسیح کے نزول تک تو سب فرق کا اختلاف ایسا نہ ہو گا کہ ایک دوسرے کے -