انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 534 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 534

لوم جلد - ۳ ۵۳۴ ذکر الهی دیکھا کہ مسجد میں کچھ لوگ نماز میں مشغول ہیں اور کچھ ایک حلقہ کئے بیٹھے ہیں اور دین کی باتیں کر رہے ہیں۔رسول کریم ال ان لوگوں میں بیٹھ گئے جو حلقہ کئے بیٹھے تھے اور فرمایا کہ یہ کام اس سے افضل ہے جو دوسرے لوگ کر رہے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ذکر جہری بعض اوقات ذکر تری پر فضیلت رکھتا ہے۔بعض اوقات میں نے اس لئے کہا ہے کہ وہ بھی اپنے وقت پر ضروری ہوتا ہے۔ہاں جس وقت لوگ جمع ہوں اس وقت ذکر جہری مفید ہوتا ہے۔کیونکہ اس کے ذریعہ دوسرے لوگوں کے تجربات سن کر اور اپنے ان کو سنا کر استفادہ اور افادہ کا زیادہ موقعہ ملتا ہے اور ایسے وقت میں علیحدہ ذکر کرنا بعض دفعہ باعث ریا بھی ہو جاتا ہے۔قرآن کریم کا درس بھی اسی قسم کے اذکار میں داخل ہے اور اپنے ہم مذہبوں میں دین کے متعلق خطب و وعظ بھی اسی میں شامل ہیں۔اس ذکر کی یہ ہے کہ جو مخالفوں کی مجالس میں کیا جاتا ہے۔اسلام کے سوا باقی تمام مذاہب اللہ تعالیٰ کی صفات میں کچھ نہ کچھ کمی اور زیادتی کے مرتکب ہیں۔پس ان کے سامنے اللہ تعالٰی کو اس کی اصلی شان اور شوکت میں ظاہر کرنا بھی ایک ذکر ہے۔جیسے کہ سورہ مدثر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آيَاتِهَا المُدَيَّرَه قُم فَانْذِرُ وَرَبِّكَ فَكَبِّرُ المدثر : ۲-۴) لوگوں کو عذاب الہی سے ڈرانے کے علاوہ ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور تکبیر ذکر میں داخل ہے۔پس غیر مذاہب کے لوگوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی صفات کو بیان کرنا اور ان کے اثبات پر دلائل دینا بھی ذکر الہی میں شامل ہیں۔سورۃ اسْمَ رَبِّكَ الأعلى (الاعلیٰ : ۲) میں بھی اسی ذکر کی طرف اشارہ کیا ہے اور صاف الفاظ میں دوسری قسم فَذَكَرَ إِنْ نَفَعَتِ الذِّكْرَى (الاعلی : ۱۰) کہہ کر اس کا نام صاف طور پر ذکر رکھا ہے۔اب میں ذکر کرنے کے کچھ فوائد بتاتا ہوں۔سب سے بڑا فائدہ جو ذکر کرنے ذکر کے فوائد سے حاصل ہوتا ہے وہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالی کی رضا حاصل ہو جاتی ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ نیک کام ہے اس لئے دوسرے کاموں کی طرح اس سے خدا راضی ہو جاتا ہے۔بلکہ اس سے خاص طور پر راضی ہوتا ہے کیونکہ جس قدر کوئی بڑا کام ہو اسی قدر اس کا بڑا انعام بھی دیا جاتا ہے۔ذکر کے متعلق ایک جگہ خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَلَذِكْرُ اللهِ اكْبَرُ کہ اللہ کا ذکر بہت بڑا ہے۔اور دوسری جگہ فرماتا ہے۔وَ عَدَ الله الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنتِ جَنَّتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهرُ خَلِدِينَ فِيهَا وَ مَسَكنَ۔گر