انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 532 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 532

انوار العلوم جلد ۳۰ ۵۳۲ ذکراتی یہ بھی ایک عظیم الشان طریق ہے اور روحانیت کے اعلیٰ کمال پر پہنچا دیتا بائیسواں طریق ہے۔رسول کریم ﷺ سے پوچھا گیا تھا کہ احسان کیا ہے۔آپ نے فرمایا - اَنْ تَعْبُدَ اللهَ كَانَّكَ تَرَاهُ وَإِنْ لَمْ تَكُن تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ بخاری کتاب الایمان انسوال جبريل النبي عن الايمان والاسلام والاحسان و علم الساعة، خدا تعالیٰ کی اس طرح عبادت کی جائے کہ گویا بندہ خدا کو دیکھ رہا ہے یا کم از کم یہ خیال ہو کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے۔پس جب نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو تو یہی نقشہ اپنی آنکھوں کے سامنے جماؤ کہ گویا خدا تعالیٰ کے حضور کھڑے ہو اور وہ تمہیں سامنے دکھائی دے رہا ہے۔کسی شکل میں نہیں بلکہ اپنے جلال اور عظمت کے ساتھ۔اس طرح خدا تعالیٰ کی عظمت اور جبروت دل میں بیٹھ جاتی ہے اور نفس سمجھ لیتا ہے کہ ایسے وقت میں اسے کوئی لغو حرکت نہیں کرنی چاہئے۔پھر اگر خدا کو نہ دیکھ سکو تو کم از کم اتنا تو یقین ہو کہ خدا مجھے دیکھ رہا ہے اور میرے دل کے تمام خیالات کو پڑھ رہا ہے۔انسان دیکھے کہ اس وقت جب کہ میں زبان سے الحمد للہ کہہ رہا ہوں میرا دل بھی الحمد للہ کہہ رہا ہے یا کسی اور خیال میں مشغول ہے۔اور اگر دل کسی طرف متوجہ ہے تو اس کو ملامت کرے اور اپنی زبان کے ساتھ شامل کرلے۔رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ وہ بندہ جو دو رکعت بھی ایسی پڑھتا ہے کہ ان میں اپنے نفس سے کلام نہیں کرتا اس کے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔اب غور کرو کہ وہ انسان جس کو ہمیشہ ہی یہ حالت میسر ہو وہ کس قدر فضیلت حاصل کرلے گا۔پس نماز میں خدا تعالیٰ کی طرف توجہ قائم رکھنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔پھر یہ طریق جو محض خدا تعالیٰ کے احسان اور فضل سے میں نے آپ لوگوں کو بتائے ہیں ان کو معمولی نہ سمجھنا اہئے بلکہ ان کو پورے طور پر عمل میں لاؤ اور یاد رکھو کہ اگر عمل میں لاؤ گے تو بہت برکت پاؤ گے۔نماز کے خاتمہ پر جو السلام علیکم کہا جاتا ہے اس میں بھی عجیب اشارہ ہے۔اور اس میں توجہ کے قائم رکھنے کی طرف انسان کو متوجہ کیا گیا ہے۔دیکھو السلام علیکم اس وقت کہا جاتا ہے جبکہ کوئی شخص کہیں سے آتا ہے۔نماز ختم کرنے کے وقت جب ایک مؤمن السلام علیکم ورحمتہ اللہ کہتا ہے تو گویا وہ یہ کہتا ہے کہ میں خدا تعالیٰ کے حضور اپنی عبودیت کا اظہار کرنے کے لئے گیا تھا اب وہاں سے واپس آیا ہوں اور تمہارے لئے سلامتی اور رحمت لایا ہوں۔مگر چونکہ وہ شخص تمام وقت وہیں موجود ہوتا ہے اس لئے اس کا یہی مطلب لیا جا سکتا ہے کہ اس کی روح