انوارالعلوم (جلد 3) — Page 525
لوم جلد - ۳ ۵۲۵ ذکراتی عربی عبارتیں پڑھ رہے ہوتے ہیں ساتھ ساتھ ان کے معنی ان کے ذہن میں نہیں آتے بلکہ معنی اور لفظ آگے پیچھے ہو جاتے ہیں۔مثلاً جب ایک شخص اِيَّاكَ نَعْبُدُ کہتا ہے تو اس کے ذہن میں اس جملہ کے معنی نہیں بلکہ الرحمنِ الرَّحِيمِ يَا مُلِكِ يَوْمِ الدِّینِ کے معنی آرہے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے پوری طرح توجہ قائم نہیں رہ سکتی اور نہ پوری طرح نماز کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔اس لئے ان لوگوں کو جو عربی سے اچھی طرح واقفیت نہیں رکھتے اور اس پر ان کو اس قدر قدرت نہیں کہ مادری زبان کی طرح اس کے الفاظ کے ساتھ ساتھ معانی بھی ذہن میں مستحضر ہو جاویں ان کو چاہئے کہ جب وہ نماز پڑھنے لگیں تو جب تک اس فقرہ کے معنی جو وہ پڑھ رہے ہیں ذہن میں نہ آجادیں آگے نہ چلیں۔مثلا وہ بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ جب پڑھیں تو جب تک اس کے معنی اچھی طرح ذہن میں نہ آجاویں اَلحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ العلمین نہ کہیں۔اور جب تک اس آیت کے معنی ذہن میں نہ آجادیں الرحمن الرحیم نہ کہیں اور اسی طرح سب آیات کے متعلق کریں۔کیونکہ اگر ایسا نہ کریں گے تو الفاظ کوئی اور ان کی زبان پر جاری ہوں گے اور معنی ذہن میں کوئی اور آتے ہوں گے۔جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ خیالات میں انتشار پیدا ہو گا اور انتشار ہوگا تو توجہ نہ پیدا ہو سکے گی۔جو لوگ عربی زبان جانتے ہیں وہ بھی اگر جلدی جلدی پڑھتے جائیں تو گو معانی ان کے ذہن میں فورا آجاو یں مگر دل میں جذب ہونے کا ان کو موقعہ نہ ملے گا اس لئے ان کو بھی چاہئے کہ قرآن آہستہ آہستہ پڑھیں اور وقفہ دے دے کر آگے بڑھیں۔یہ بات قرآن میں ہی ضروری نہیں بلکہ وعظ و نصیحت میں بھی ایسا ہی کرنا چاہئے۔ایک دفعہ ابو ہریرہ جلدی جلدی اور زور زور سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ حضرت عائشہ نے کہا یہ کون ہے اور کیا کر رہا ہے۔انہوں نے اپنا نام بتایا اور کہا کہ میں آنحضرت ﷺ کی احادیث سنا رہا ہوں۔انہوں نے کہا کیا رسول اللہ ا بھی اسی طرح کلام کیا کرتے تھے یہ سن کر وہ خاموش ہو گئے۔غرض رسول کریم ان کی یہ سنت ہے کہ آپ نہ صرف قراءت میں بلکہ عام وعظ و نصیحت میں بھی آہستگی سے کام لیتے تھے۔پس توجہ قائم رکھنے کے لئے آپ لوگ بھی اس حکم اور سنت پر عمل کریں اس طرح توجہ بڑی عمدگی سے قائم رہے گی۔کیونکہ یہ گڑ بڑ نہ رہے گی کہ زبان پر کچھ اور ہے اور دل میں کچھ اور۔