انوارالعلوم (جلد 3) — Page 28
۲۸ ایک صاحب کے پانچ سوالوں کا جواب کے حکم کے خلاف وہ ایک وقتی مجبوری تھی جس کی وجہ سے ایسا کرنا پڑا۔اب بھی اگر کسی کو ایسی مجبوری پیش آئے تو وہ ایسا ہی کر سکتا ہے اور اس کے لئے ایسا جائز ہوگا۔سونا پہننا مردوں کے لئے جائز نہیں لیکن حضرت عمر نے کسری کے کڑے ایک صحابی کو پہنائے اور جب اس نے و ان کے پہننے سے انکار کیا تو اس کو آپ نے ڈانٹا اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ تیرے ہاتھوں میں مجھے کسری کے کڑے نظر آتے ہیں۔اسی طرح ایک موقعہ پر کسری کا تاج اور اس کا ریشمی لباس جب غنیمت کے اموال میں آیا تو حضرت عمر نے ایک شخص کو اس لباس اور اس تاج کے پہننے کا حکم دیا اور جب اس نے بہن لیا تو آپ رو پڑے اور فرمایا چند دن ہوئے کسری اس لباس کو پہن کر اور اس تاج کو سر پر رکھ کر ملک ایران پر جابرانہ حکومت کرتا تھا اور آج وہ جنگلوں میں بھاگا پھر رہا ہے۔دنیا کا یہ حال ہوتا ہے اور یہ حضرت عمرہ کا فعل ظاہر بینی انسان کو شاید درست معلوم نہ ہو کیونکہ ریشم اور سونا پہننا مردوں کے لئے جائز نہیں لیکن ایک نیک بات سمجھانے اور نصیحت کرنے کے لئے حضرت عمر نے ایک شخص کو چند منٹ کے لئے سونا اور ریشم پہنا دیا۔غرض اصل سے تقویٰ اللہ ہے۔احکام سب تقومی اللہ کے پیدا کرنے کے لئے ہوتے ہیں اگر تقویٰ اللہ کے حصول کے لئے کوئی شے جو بظاہر عبادت معلوم ہوتی ہے چھوڑنی پڑے تو وہی کار ثواب ہو گا جیسے میں نے بتایا ہے کہ عید کے دن روزہ اور سورج نکلتے اور غروب ہوتے وقت نماز کا ترک ہی ثواب کا موجب ہے اور ان عبادتوں کا ان اوقات میں بجالانا انسان کو شیطان بنا دیتا ہے۔اس اصل کو مد نظر رکھ کر اب آپ نماز با جماعت کے معاملہ کو دیکھیں۔مسیح موعود آتا ہے اس کی صداقت کو ہم نشانات سے دیکھتے ہیں اور اسے سچا پاتے ہیں۔اسے اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ تیری جماعت کے لوگ غیروں کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔اب بتائیں کہ خدا تعالیٰ کے اس حکم کا مانا ثواب ہو گا یا اس کو ترک کرنا ثواب ہو گا۔نماز با جماعت بے شک ایک کارِ ثواب ہے لیکن اسی وقت جب کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ہو۔اگر خدا تعالٰی کے حکم کے خلاف وہ نماز ہو تو وہ ثواب نہیں بلکہ گناہ ہے۔بعض علماء نے بھی اپنے مخالفوں کے پیچھے نماز پڑھنے سے اپنے متبعین کو روکا ہے لیکن ان کا یہ فعل ناجائز تھا کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ تھا۔لیکن مسیح موعود کی صداقت کو جب ایک شخص مان لے اور مسیح موعود ایک بات اذن الہی سے کہے تو اس کی اطاعت ہی کارِ ثواب ہو گا نہ کہ اس کی خلاف ورزی۔ہم تو احادیث میں دیکھتے ہیں کہ بارش کے وقت بھی جماعت ترک کر دینے کی اجازت۔