انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 521 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 521

انوار العلوم جلد ۳۰ ۵۲۱ ذکرالی نیت کرنے کا جنون ہو گیا تھا وہ اگر کسی پچھلی صف میں کھڑا ہوتا اور نیت کرتا کہ ” پیچھے اس امام کے " تو اسے خیال آتا کہ میں امام کے پیچھے تو ہوں نہیں میرے آگے کوئی اور شخص ہے اس لئے وہ آگے جاکر کہتا پیچھے اس امام کے پھر اسے شک پڑتا کہ میں تو اب بھی امام کے پیچھے نہیں ہوں اس لئے وہ امام کے پیچھے جا کر کھڑا ہوتا اور پھر اس کو ہاتھ لگا کر کہتا کہ پیچھے اس امام کے۔اس قسم کے وہم میں جو لوگ پڑے ہوئے ہیں وہ بھی غلطی کرتے ہیں اور اس کا نتیجہ بہت برا ہوتا ہے۔نیت کیا ہوئی گویا مصیبت ہو گئی۔نیت دراصل قلب کی ہوتی ہے۔مگر بعض لوگوں کو کھڑے ہوتے وقت پتہ ہی نہیں ہو تاکہ کیا کرنے لگے ہیں۔پس جب تم نماز پڑھنے لگو تو نماز پڑھنے کا خیال بھی کر لو اور سمجھو کہ کیا کرنے لگے ہو۔جب یہ بات سمجھ لو گے تو اسی وقت سے تمہارے اندر خشیت پیدا ہونی شروع ہو جائے گی اور جب خشیت پیدا ہو جائے گی تو توجہ بھی قائم رہ سکے گی۔نماز با جماعت ہے کہ اس طرح نماز پڑھتے ہوئے خدا تعالٰی کی عظمت کی۔آٹھواں طریق طرف متوجہ کرنے والے الفاظ انسان کے کان میں امام کی طرف سے ڈالے جاتے ہیں۔اور جو انسان غفلت میں ہو اور دوسرے خیالات میں پڑ جائے اس کو ٹھکور دیا جاتا ہے۔مثلاً جب اللہ اکبر کہا جاتا ہے تو گویا اس بات سے اسے آگاہ کیا جاتا ہے کہ دیکھو سنبھل کر کھڑے ہونا جس کے حضور میں کھڑے ہونے لگے ہو وہ بہت بڑا ہے۔پھر جب کھڑے ہونے میں کچھ وقت گذر جاتا ہے اور کسی کے دل میں طرح طرح کے خیالات آنے لگتے ہیں تو پھر امام بلند آواز سے کہہ دیتا ہے اللہ اکبر اللہ ہی سب سے بڑا ہے۔پھر جب غفلت آنے لگتی ہے تو سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کی آواز کان میں ڈالی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کی باتیں سنتا اور قبول کرتا ہے جو اس کی حمد کرتا ہے۔اور اس طرح اسے متوجہ کیا جاتا ہے کہ اگر کچھ فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہو تو اللہ تعالیٰ کی حمد کرو ورنہ یونہی وقت ضائع ہو گا۔غرض بار بار امام مقتدیوں کو توجہ دلاتا اور ہوشیار کرتا رہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ امام کو مقتدیوں پر فضیلت ہے کیونکہ وہ ان کو بار بار متوجہ کرتا ہے کہ تم سب سے بڑے بادشاہ کے سامنے کھڑے ہو۔ہوشیار ہو کر کھڑے رہنا۔یہ ہے کہ نماز کے ادا کرنے کو ایک ہی حالت میں نہیں رکھا گیا بلکہ مختلف طور پر نواں طریق رکھا ہے۔اگر کوئی نماز پڑھتے ہوئے غافل ہو جائے یا دوسرے خیالات میں محو