انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 513 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 513

رالعلوم جلد ۳۰ ۵۱۳ ذکرالی بشاش ہی ہوتا ہے اسی طرح جو وضو کر کے نشاط سے ہوتا ہے وہ اٹھتا بھی نشاط سے ہی ہے۔اور اس طرح اس کو اٹھنے میں مدد ملتی ہے۔کہ جب سونے لگے تو کوئی ذکر کر کے سوئے۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ چوتھا طریق یہ ہے رات کو ذکر کرنے کے لئے پھر اس کی آنکھ کھل جائے گی۔یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ا بھی سونے سے پہلے یہ ذکر کیا کرتے تھے لے آیت الکرسی پھر تینوں قل ایک ایک دفعہ پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونکتے اور ہاتھ سارے جسم پر پھیرتے اور ایسا تین دفعہ کرتے تھے اور پھر دائیں طرف منہ کر کے یہ عبارت پڑھتے - اللهُم اَسْلَمْتُ نَفْسِی الَيْكَ وَوَجَهُتُ وَجْهِ إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِ إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةَ إِلَيْكَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا إِلَّا إِلَيْكَ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِى اَنْزَلْتَ وَ نَبَتِكَ الَّذِى اَرْسَلْتَ (ترمی كتاب الدعوات باب ما جاء في الدعاء اذا اوى الى فراشه، اسی طرح ہر ایک مؤمن کو چاہیئے۔اور پھر چارپائی پر لیٹ کر دل میں سُبحَانَ اللهِ وَ بِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ یا کوئی اور ذکر جاری رکھنا چاہئے حتی کہ اس حالت میں آنکھ لگ جائے۔کیونکہ جس حالت میں انسان سوتا ہے عام طور پر وہی حالت ساری رات اس پر گزرتی رہتی ہے۔اس لئے جو شخص تسبیح و تحمید کرتے سوئے گا۔گویا ساری رات اسی میں لگا رہے گا۔دیکھو عورتیں یا بچے اگر کسی غم اور تکلیف میں سوئیں۔تو سوتے سوتے جب کروٹ بدلتے ہیں۔تو دردناک اور غمگین آواز نکالتے ہیں۔کیونکہ اس غم کا جو سوتے وقت ان کو تھا ان پر اثر ہوتا ہے۔لیکن اگر کوئی تسبیح کرتے ہوئے گا تو جب کروٹ بدلے گا اس کے منہ سے تسبیح کی آواز ہی نکلے گی۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومن وہ ہوتے ہیں کہ نتجا فِى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ ) السجدہ : ۱۷) یعنی ان کے پہلو بستروں سے اٹھے رہتے ہیں۔اور وہ خوف اور طمع سے اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس سے خرچ کرتے ہیں۔بظاہر تو یہ بات درست نہیں معلوم ہوتی کیونکہ آنحضرت بھی سوتے تھے اور دوسرے سب مؤمن بھی سوتے ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ چونکہ وہ تسبیح کرتے کرتے سوتے ہیں اس لئے ان کی نیند نیند نہیں ہوتی بلکہ تسبیح ہی ہوتی ہے اور اگر چہ وہ سوتے ہیں مگر در حقیقت سوتے نہیں۔ان کی کمریں بستروں سے الگ رہتی ہیں اور وہ خدا کی یاد میں مشغول ہوتے ہیں۔وَالجَأْتُ ظَهْرِى إِلَيْكَ