انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 512 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 512

ام جمعه ۳۰ ۵۱۲ ذکرالی سب باتیں جو میں بیان کروں گاوہ قرآن اور حدیث سے ہی اخذ کی ہوئی بیان کروں گا نہ کہ اپنی طرف سے۔مگر یہ خدا تعالی کا مجھ پر خاص فضل ہے کہ یہ باتیں مجھ پر ہی کھولی گئی ہیں۔اور اوروں سے پوشیدہ رہی ہیں۔اگر وقت تنگ نہ ہوتا۔تو میں قرآن کریم کی وہ آیات اور حدیثیں بھی بیان کر دیتا جن سے میں نے اخذ کی ہیں مگر اب صرف نتائج ہی بیان کروں گا۔کہ اللہ تعالٰی نے نیچر میں قاعدہ رکھا ہے کہ جس وقت میں کوئی چیز پیدا پہلا طریق یہ ہے ہوئی ہو وہی وقت جب دوسری دفعہ آئے تو اس چیز میں پھر جوش پیدا ہو جاتا ہے۔اس کی مثالیں کثرت سے مل سکتی ہیں۔مثلاً انسان کو جو بیماری بچپن میں ہوئی ہو وہی بیماری بڑھاپے میں جبکہ بچپن کی سی حالت ہو جاتی ہے عود کر آتی ہے۔یہی بات درختوں اور پرندوں میں پائی جاتی ہے۔اس قاعدہ سے رات کو اٹھنے میں اس طرح مدد مل سکتی ہے کہ عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد کچھ عرصہ ذکر کر لے۔اس کا یہ فائدہ ہو گا کہ جتنا عرصہ وہ ذکر کرے گا صبح سے اتنا ہی قبل اس کی آنکھ ذکر کرنے کے لئے کھل جائے گی۔کہ عشاء کی نماز پڑھ لینے کے بعد کسی سے کلام نہ کرے۔رسول دوسرا طریق یہ ہے کریم ﷺ نے بھی عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد کلام کرنے سے رد کا ہے۔گو یہ بھی ثابت ہے کہ بعض دفعہ آپ "کلام کرتے رہے ہیں۔مگر عام طور پر آپ نے منع فرمایا ہے۔اس کا باعث یہ ہے کہ اگر عشاء کی نماز کے بعد باتیں شروع کر دی جائیں گی تو انسان زیادہ جاگے گا اور صبح کو دیر کر کے اٹھے گا۔اور دوسرے یہ کہ اگر وہ باتیں دینی اور مذہبی نہ ہوں گی تو ان کی وجہ سے توجہ دین سے ہٹ جائے گی۔اس لئے آنحضرت ا نے فرمایا کہ عشاء کی نماز کے بعد بغیر کلام کئے سو جانا چاہئے تاکہ دینی خیالات پر ہی آنکھ لگے اور سویرے کھل جائے۔دفتر کے کام یا اور کوئی ضروری فعل عشاء کی نماز کے بعد منع نہیں۔مگر یہ ضروری ہے کہ سونے سے پہلے ذکر کر لے۔یہ دوسرا طریق ہے۔کہ جب کوئی عشاء کی نماز پڑھ کر آئے اور سونے لگے تو خواہ اس کا تیسرا طریق یہ ہے وضوی ہے۔تو بھی تازہ وضو کر کے چارپائی پر لیٹے۔اس کا اثر قلب پر پڑتا ہے اور اس سے خاص قسم کی نشاط پیدا ہوتی ہے۔اور جب کوئی تازہ وضو کی وجہ سے نشاط کی حالت میں سوئے گا تو وہ آنکھ کھلتے وقت بھی نشاط میں ہی ہو گا۔عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ اگر کوئی رو تا سوئے تو وہ چیخ مار کر اٹھ بیٹھتا ہے۔اور اگر ہنستا سوئے تو اٹھتے وقت بھی اس کا چہرہ