انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 508 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 508

دم جلد ۳۰ ۵۰۸ ذکر الهی وقت اور رات کا پہلا اور پچھلا وقت بھی ذکر کے لئے مفید بتایا گیا ہے۔چھٹا وقت ہر ایک نماز کے پڑھنے کے بعد کا ہے۔رسول کریم ال اس ذکر کو ہمیشہ جاری رکھتے تھے گویا سنت ہو گئی تھی۔ابن عباس کہتے ہیں کہ جب ہم دور ہوتے تھے۔تو انت السَّلَامُ وَمِنكَ السَّلَامُ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ کے ذکر سے معلوم کرتے تھے کہ نماز ختم ہو گئی ہے۔پس نماز کے بعد پڑھنے کے لئے ایک ذکر تو یہ ہے کہ اَنْتَ السَّلَامُ وَ مِنكَ السَّلَامُ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ پڑھا جاوے۔دوسرے یہ کہ سُبْحَانَ اللہ اور الْحَمْدُ لِلهِ تینتیس تینتیس دفعہ پڑھا جاوے اور اللہ اکبر چو نہیں دفعہ پڑھا جاوے ( ترندی کتاب الدعوات باب ما اء في التسبيح والتكبير - یہ ذکر کئی طریق پر مردی ہے۔مگر سب سے زیادہ صحیح طریق یہی ہے کہ الگ الگ پہلے دونوں جملوں کو تینتیس تینتیں دفعہ کے۔اور تیرے کو چونتیس دفعہ کے نماز کے بعد کا وقت ذکر کے لئے بہت ہی اعلیٰ درجہ کا ہے اس وقت ضرور ذکر کرنا چاہئے۔بعض لوگ مجھے اور حضرت مولوی صاحب خلیفۃ المسیح الاول اور حضرت مسیح موعود کو دیکھ کر شائد سمجھتے ہوں کہ یہ نماز کے بعد ذکر نہیں کرتے۔انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفہ المسیح الادل بھی ذکر کیا کرتے تھے اور میں بھی کرتا ہوں۔ہاں اونچی آواز سے نہ وہ کہتے تھے اور نہ میں۔دل میں کہتا ہوں۔پس نماز کے بعد ضرور ذکر کرنا چاہئے۔ذکر کے متعلق کچھ اور احتیاطیں بھی ہیں اور وہ یہ کہ سوائے ان موقعوں کے جو حدیث سے ثابت ہیں مجلس میں اونچی آواز سے ذکر نہ کیا جائے۔بعض دفعہ اس طرح ریاد پیدا ہو جاتا ہے۔اور بعض دفعہ دوسرے لوگوں کو ذکر کرنے یا نماز پڑھنے میں تکلیف ہوتی ہے۔پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جو بات نئی اختیار کی جائے وہ بو جھل معلوم ہوتی ہے۔اور اس کے کرنے سے دل گھبراتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ذکر کرنے میں دل نہیں لگتا۔لیکن کیا ایک ہی دن میں کوئی شخص کسی فن میں کامل ہو جاتا ہے۔ہرگز نہیں بلکہ آہستہ آہستہ اور کچھ مدت کے بعد ایسا ہوتا ہے۔پس اگر ابتداء میں کسی کا دل نہ لگے اور اسے بوجھ سا معلوم ہو تو وہ گھبرائے نہیں۔آہستہ آہستہ دل قبول کر لے گا لیکن شرط یہ ہے کہ ذکر کو قائم رکھا جائے۔پھر بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں ذکر کرنے میں لذت بھی آجاتی ہے۔مگر انہیں چاہئے کہ نفس کے لئے لذت نہ تلاش کریں۔اور ذکر کرنے کے وقت یہ نیت نہ ہو کہ لذت حاصل ہو بلکہ عبادت سمجھ کر کرنا چاہئے۔کیونکہ لذت اصل چیز نہیں ہے۔اصل چیز عبادت ہے۔اور عبادت اسی