انوارالعلوم (جلد 3) — Page 499
3 دم جلد ۳۰ ۴۹۹ ذکرالی یہ اس نے اپنی نادانی سے کہا۔ورنہ آنحضرت ا کے کئی بچے فوت ہو چکے تھے۔تو شورو خشی نتیجہ ہوتی ہے بے صبری اور ناامیدی کا یا ضعف قلب کا۔اگر ضعف قلب کی وجہ سے ہو تو بھی کوئی اچھی بات نہیں۔حضرت جنید کے زمانہ کے ایک بزرگ کی نسبت لکھا ہے کہ ذکر الہی سن کر ان پر غشی طاری ہو جاتی تھی۔شاگردوں نے اس کی وجہ پوچھی تو کہا کہ اب میں چونکہ بوڑھا اور کمزور ہو گیا ہوں اس لئے اس طرح ہوتا ہے۔دیکھو انہوں نے یہ نہیں کہا کہ اب میں چونکہ اعلیٰ مقام اور اعلیٰ درجہ پر پہنچ گیا ہوں۔اس لئے غش کھا جاتا ہوں بلکہ اس کو بڑھاپا یعنی کمزوری کی وجہ سے بتایا ہے۔پھر اگر غشی مایوسی اور نا امیدی کی وجہ سے ہوتی ہے۔تو اس کے متعلق خدا تعالی فرماتا ہے۔وَلَا تَا يُنَسُوا مِنْ رَوحِ اللَّهِ ، إِنَّهُ لَا يَا يُنَسُ مِنْ رَوحِ الله إلَّا الْقَوْمُ الكفرُونَ (یوسف : (۸۸) پس جو شخص غش کھاتا اور بے ہوش ہوتا ہے وہ اگر ناامیدی کی وجہ سے ایسا کرتا ہے تو کا فربنتا ہے اور اگر ضعف قلب کی وجہ سے غش کھاتا ہے تو بیمار ہے۔اس کی نقل کرنا کوئی عقلمندی کی بات نہیں ہے۔صحابہ کے وقت بھی یہ بات پیش ہوئی ہے۔حضرت عبداللہ بن زبیر نے اسماء سے غشی کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا۔اَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِیم پھر حضرت عبد الله بن زبیر کے لڑکے نے اپنی دادی کے پاس بیان کیا کہ میں ایک ایسی جگہ گیا تھا جہاں کچھ لوگ قرآن پڑھتے اور غش کھا کھا جاتے تھے۔یہ سن کر ان کی پھوپھی اسماء نے جو حضرت ابوبکر کی صاحبزادی اور صحابیہ تھیں کہا اگر تم نے ایسا دیکھا تو وہ شیطانی کام ہے۔ابن سیرین خواب نامہ والے جو کہ ابو ہریرہ کے داماد تھے ان کے متعلق روایت ہے کہ ان کو کسی نے کہا فلاں آدمی اگر قرآن کریم کی کوئی آیت سنتا ہے تو بیہوش ہو کر گر جاتا ہے۔انہوں نے کہا میں تب اس بات کو سچا سمجھوں کہ اسے ایک اونچی دیوار پر بٹھا دو اور ایک آیت نہیں بلکہ سارا قرآن سناؤ اور پھر وہ گر پڑے۔آج کل بھی جن کی نسبت کہا جاتا ہے کہ حال کھیلتے اور آپے سے باہر ہو جاتے ہیں ان کو دیکھا گیا ہے کہ وہ مجلس میں جب حال کھیلتے ہیں تو اس جگہ گرتے ہیں جہاں دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ بیٹھے ہیں تاکہ چوٹ نہ لگے۔یہ کبھی نہیں ہوا کہ وہ کوٹھے سے نیچے گر جائیں۔یا اور کسی ایسی جگہ گریں جہاں سخت چوٹ لگ سکے سوائے اس کے کہ کبھی غلطی سے ایسا ہو جاوے۔