انوارالعلوم (جلد 3) — Page 498
انوار العلوم جلد ۳۰ ۴۹۸ ذکرائی تعلق ہی نہیں ہے۔" خدا تعالیٰ کا کلام بھی کیسا پُر حکمت ہے کہ اس نے اس قسم کی سب حرکات کا اپنے کلام میں پہلے سے ہی رد کر دیا ہوا ہے۔کوئی کہہ سکتا تھا کہ اگر یہ حالتیں قرآن کریم نے نہیں بیان کیں تو نہ سہی جو بیان کی ہیں یہ ان کے علاوہ ہیں۔اول تو یہ کہنا ہی نادانی ہے۔لیکن جب ہم قرآن کریم کی ان آیات کو دیکھتے ہیں جن میں ذکر الہی کے وقت کی حالت بتائی گئی ہے۔تو معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان میں ایسے الفاظ رکھ دیئے ہوئے ہیں جو ان تمام باتوں کا رد کر دیتے ہیں۔جن کو آج کل جائز اور روا قرار دیا جاتا ہے۔دیکھئے ان آیات میں وَجُلٌ اقْشِعَرَارُ تلينُ جُلُودُ کے الفاظ آئے ہیں۔اور لغت کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دجل کے ایک معنی نرمی اور گھنے کے ہیں اور یہ سکون کو ظاہر کرتا ہے۔مگر آج کل کے صوفی حرکت شروع کر دیتے ہیں جو اس کے خلاف ہے۔پھر اقشعرار بالوں کے اچانک خوف سے کھڑے ہو جانے کو کہتے ہیں یہ بھی سکون چاہتا ہے۔کیونکہ اچانک خوف سے انسان کھڑے کا کھڑا رہ جاتا ہے نہ کہ حرکت کرنا شروع کر دیتا ہے۔اس طرح سے تلينُ جُلُود بھی سکون پر دلالت کرتا ہے۔حرکت کے لئے عربی میں طرب کا لفظ ہے جو کہ خوشی کے مارے اچھلنے کودنے کو کہتے ہیں اور قرآن کریم میں ذکر الہی کے موقعہ پر یہ لفظ کہیں نہیں آیا۔اور لغت والے لکھتے ہیں کہ طرب خشوع و خضوع کے خلاف ہے۔ادھر قرآن کریم بتاتا ہے کہ ذکر اللہ کرنے کا نتیجہ خشوع و خضوع ہے۔پس معلوم ہوا کہ ایسے موقع پر طرب نہیں ہو سکتا۔کیونکہ طرب خشوع و خضوع کی ضد میں واقعہ ہوا ہے۔اس لئے ناچنا کو دنا اور اچھلتا جو طرب ہے ہرگز ذکر اللہ کے نتیجہ میں نہیں را ہو سکتا بلکہ اس کے نتیجہ میں تو خشوع، رونا اور عبادت کرنا اور ڈرنا ہوتا ہے اور یہی ہونا بھی چاہئے۔کیونکہ اسلام عقل اور ہوش کو قائم کرنے والا اور سیدھی راہ پر چلانے والا ہے نہ کہ بیہوش اور نادان بنانے والا۔مگر کودنا اچھلتا اور شور مچانا بے ہوشی اور کم عقلی کی وجہ سے ہوتا ہے اس لئے یہ اسلام کی تعلیم نہیں ہو سکتی۔اسی طرح غشی کا طاری ہونا بھی کوئی پسندیدہ بات نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام نے یہ تو جائز رکھا ہے کہ اگر کسی کا کوئی عزیز مر جائے تو اس پر روئے۔مگر یہ جائز نہیں رکھا کہ وہ چیخ و پکار کرے اور غش پر غش کھاتا چلا جائے۔چنانچہ رسول کریم ﷺ نے ایک عورت کو جو اپنے بچے کی قبر پر اسی طرح کی بے صبری کی حرکات کرتی تھی فرمایا صبر کرو۔اس نے کہا اگر تیرا بچہ مرتا تو تجھے پتہ لگتا کہ کس طرح صبر کیا جاتا ہے۔ه ابو داؤد کتاب الجنائز باب الصبر عند الصدمة