انوارالعلوم (جلد 3) — Page 468
انوار العلوم جلد۔۴۶۸ جماعت احمدیہ کے فرائض اور اسکی ذمہ داریاں نہیں بنائے گا جب تک تم اپنی جان اور مال اس کی راہ میں نہ لگا دو گے۔اور اس زمانہ میں جو سب سے بڑا کام تمہارے سپرد کیا گیا ہے اس کو سرانجام نہیں دو گے۔اس زمانہ کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَإِذَا الْجَنَّةُ ازْ لِغَتْ (التکویر : (۱۴) کہ اس وقت جنت قریب کر دی جائے گی یعنی تھوڑی سی کوشش سے بھی جنت حاصل ہو سکے گی۔پس یہ مت سمجھو کہ تمہاری کوششیں اور تدبیریں تمہارا مال اور جان صرف کرنا ضائع جائے گا بلکہ ہر ایک قدم جو تم خدا کے لئے اٹھاؤ گے وہ تمہیں خدا تعالیٰ کے قریب کر دے گا۔اس کے بدلہ میں خدا تعالیٰ تمہاری طرف آنے کے لئے دو قدم اٹھائے گا۔اس لئے جس قدر کوشش کر سکتے ہو کر لو اور جس قدر ہمت دکھا سکتے ہو دکھالو تاکہ خدا تعالیٰ کے بڑے انعامات کے وارث بن جاؤ۔ورنہ یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے دو قسم کے ابتلاء آتے ہیں۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے بھی فرمایا ہے کہ پہلے تو خدا تعالیٰ اس قسم کے ابتلاء لاتا ہے جن میں انسان خود ہی اپنے آپ کو سزا دے لے۔مثلاً قربانی کرنے کا حکم یا عبادت کرنے، زکوۃ دینے ، حج کرنے کے احکام ، ان میں وقت جان اور مال خرچ کرنا پڑتا ہے۔اور یہ ایسا ہی ہوتا ہے جس طرح استاد شاگرد کو کہتا ہے کہ تم اس قدر سبق یاد کر لانا۔لیکن اگر وہ خود بخود یاد کر کے نہ لائے تو پھر کہتا ہے کہ میرے سامنے بیٹھ کر یاد کرو۔اسی طرح خدا تعالیٰ بھی پہلے ایسے ابتلاء مقرر کرتا ہے جن سے انسان خود اپنا امتحان کرلے۔اگر اس طرح کر لیتا ہے تو خدا تعالیٰ اسے عذاب سے بچا لیتا ہے۔اور اگر نہیں کرتا تو خدا تعالیٰ خود سزا دیتا ہے۔اور جانتے ہو کہ دوسرے کی چوٹ بہت سخت محسوس ہوتی ہے۔مثلاً ایک شخص کسی کو کہے کہ فلاں غلطی کے بدلے تم اپنے آپ کو خود ہی تھپڑ مار لو۔اگر خود مارے گا تو اسے اتنی تکلیف نہیں ہوگی جتنی کہ دوسرے کے مارنے سے۔اسی طرح اگر انسان اپنے آپ کی خود آزمائش کرلے تو اسے اتنی تکلیف نہیں ہوتی جتنی کہ خدا تعالیٰ کے کرنے سے۔تم لوگ خدا تعالٰی کے ابتلاؤں کو اپنے اوپر آپ وارد کرلو۔کیونکہ جو ایسا نہیں کرے گا اس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے لاٹھی گرے گی اور اس کو چور چور کر دے گی۔ہماری جماعت کو وہ نمونہ دکھانا چاہئے جو صحابہ نے دکھایا تھا اور اپنے مال اور جان کو خدا کی راہ میں دینے سے ذرا بھی دریغ نہیں کیا تھا۔آپ لوگ بھی جب تک اسی طرح نہ کریں گے خدا تعالیٰ کے انعامات کے وارث نہیں ہو سکیں گے۔اس میں شک نہیں کہ ہماری جماعت میں سے بہت سے ایسے ہیں جو صحابہ نمونہ دکھاتے ہیں۔مگر ایک گروہ ایسا ہے جو ست ہے اور یہ گروہ اپنی تعداد کے لحاظ سے کم کا